سود سارا لے گیا مجھ کو خسارہ دے گیا
وہ ستمگر آج پھر دھوکا دوبارہ دے گیا
وقت رخصت وہ کسی کا مڑ کے پیچھے دیکھنا
ذہن و دل میں نقش ہے ایسا نظارہ دے گیا
غرق ہوتے ہوتے بھی اس کو ہماری فکر تھی
ڈوبنے والا کنارے کا اشارہ دے گیا
سود سارا لے گیا مجھ کو خسارہ دے گیا
وہ ستمگر آج پھر دھوکا دوبارہ دے گیا
وقت رخصت وہ کسی کا مڑ کے پیچھے دیکھنا
ذہن و دل میں نقش ہے ایسا نظارہ دے گیا
غرق ہوتے ہوتے بھی اس کو ہماری فکر تھی
ڈوبنے والا کنارے کا اشارہ دے گیا
کرنا ہے جو تلاش مقدر تلاش کر
صحرا نوردی چھوڑ سمندر تلاش کر
پہلے تو آستین کے خنجر تلاش کر
پھراس کے بعد رہزن و رہبر تلاش کر
ساحل پہ مل سکے گا نہ نادان کچھ تجھے
موتی تلاشنے ہوں تو اندر تلاش کر
برگِ آوارہ سے منزل کا پتا پوچھتی ہے
تجھ کو جانا ہے کہاں مجھ سے ہوا پوچھتی ہے
کیسی لگتی ہے مِری قید بتا پوچھتی ہے
زندگی مجھ سے حراست کا مزا پوچھتی ہے
برگ آوارہ کی اپنی کہاں منزل کوئی
کیسی پاگل ہے ہوا مجھ سے کیا پوچھتی ہے
اب وہ بےچینئ وصال کہاں
اب جگر میں وہ اشتعال کہاں
اب وہ پہلے سے خد و خال کہاں
آپ بھی ویسے پُر جمال کہاں
سر میں سودا ہے دل میں بیچینی
ہے طبیعت میں اعتدال کہاں
محبت ہو کسی سے والہانہ غیر ممکن ہے
مسلسل اب جگر پر چوٹ کھانا غیر ممکن ہے
چبھن سینے میں ہو تو مسکرانا غیر ممکن ہے
لبوں پر عارضی مسکان لانا غیر ممکن
جہاں تک ہو رسائی آپ کی اتنا ہی دم بھرئیے
پہنچ سے دور ہر اک شے کا پانا غیر ممکن ہے
دل ابھی محوِ یاس ہے شاید
پھر بھی ملنے کی آس ہے شاید
اک تسلسل سا ہے اداسی کا
سارا عالم اداس ہے شاید
ایک ہم ہی نہیں فراق زدہ
اس کے دل میں بھی پھانس ہے شاید