Showing posts with label مظہر قریشی. Show all posts
Showing posts with label مظہر قریشی. Show all posts

Tuesday, 8 March 2022

سود سارا لے گیا مجھ کو خسارہ دے گیا

 سود سارا لے گیا مجھ کو خسارہ دے گیا

وہ ستمگر آج پھر دھوکا دوبارہ دے گیا

وقت رخصت وہ کسی کا مڑ کے پیچھے دیکھنا

ذہن و دل میں نقش ہے ایسا نظارہ دے گیا

غرق ہوتے ہوتے بھی اس کو ہماری فکر تھی

ڈوبنے والا کنارے کا اشارہ دے گیا

Wednesday, 23 February 2022

کرنا ہے جو تلاش مقدر تلاش کر

 کرنا ہے جو تلاش مقدر تلاش کر

صحرا نوردی چھوڑ سمندر تلاش کر

پہلے تو آستین کے خنجر  تلاش کر

پھراس کے بعد رہزن و رہبر تلاش کر

ساحل پہ مل سکے گا نہ نادان کچھ تجھے

موتی تلاشنے ہوں تو اندر تلاش کر

Wednesday, 1 December 2021

برگ آوارہ سے منزل کا پتا پوچھتی ہے

 برگِ آوارہ سے منزل کا پتا پوچھتی ہے

تجھ کو جانا ہے کہاں مجھ سے ہوا پوچھتی ہے

کیسی لگتی ہے مِری قید بتا پوچھتی ہے

زندگی مجھ سے حراست کا مزا پوچھتی ہے

برگ آوارہ کی اپنی کہاں منزل کوئی

کیسی پاگل ہے ہوا مجھ سے کیا پوچھتی ہے

Monday, 29 November 2021

اب وہ بےچینئ وصال کہاں

 اب وہ بےچینئ وصال کہاں

اب جگر میں وہ اشتعال کہاں

اب وہ پہلے سے خد و خال کہاں

آپ بھی ویسے پُر جمال کہاں

سر میں سودا ہے دل میں بیچینی

ہے طبیعت میں اعتدال کہاں

Saturday, 27 November 2021

محبت ہو کسی سے والہانہ غیر ممکن ہے

 محبت ہو کسی سے والہانہ غیر ممکن ہے

مسلسل اب جگر پر چوٹ کھانا غیر ممکن ہے

چبھن سینے میں ہو تو مسکرانا غیر ممکن ہے

لبوں پر عارضی مسکان لانا غیر ممکن

جہاں تک ہو رسائی آپ کی اتنا ہی دم بھرئیے

پہنچ سے دور ہر اک شے کا پانا غیر ممکن ہے

Tuesday, 23 November 2021

دل ابھی محو یاس ہے شاید

 دل ابھی محوِ یاس ہے شاید

پھر بھی ملنے کی آس ہے شاید

اک تسلسل سا ہے اداسی کا

سارا عالم اداس ہے شاید

ایک ہم ہی نہیں فراق زدہ

اس کے دل میں بھی پھانس ہے شاید