سبھی کو چُپ کرا دیتا تھا ایسا بولتا تھا
یہ دریا سُوکھنے سے پہلے کتنا بولتا تھا
تمہارے شہر کے لوگوں نے کڑوا کر دیا ہے
میں جب گاؤں میں رہتا تھا تو میٹھا بولتا تھا
وہ اب بھی لوگوں کو دریا دکھا کر کہتی ہو گی
وہ ایسے شور کرتا تھا،۔ وہ اتنا بولتا تھا
سبھی کو چُپ کرا دیتا تھا ایسا بولتا تھا
یہ دریا سُوکھنے سے پہلے کتنا بولتا تھا
تمہارے شہر کے لوگوں نے کڑوا کر دیا ہے
میں جب گاؤں میں رہتا تھا تو میٹھا بولتا تھا
وہ اب بھی لوگوں کو دریا دکھا کر کہتی ہو گی
وہ ایسے شور کرتا تھا،۔ وہ اتنا بولتا تھا
سفید چیز بهی ان کو سیاه لگتی ہے
عجب ہیں جن کو محبت گناہ لگتی ہے
سنو ہر ایک شکستہ بدن سے مت کھیلو
کسی کسی کی بڑی سخت آہ لگتی ہے
کسی کا رونا بھی لگتا ہے قہقہہ تم کو
کسی کی آہ بھی اب تم کو واہ لگتی ہے