Showing posts with label صغیر صفی. Show all posts
Showing posts with label صغیر صفی. Show all posts

Tuesday, 18 October 2022

سبھی کو چپ کرا دیتا تھا ایسا بولتا تھا

 سبھی کو چُپ کرا دیتا تھا ایسا بولتا تھا 

یہ دریا سُوکھنے سے پہلے کتنا بولتا تھا

تمہارے شہر کے لوگوں نے کڑوا کر دیا ہے 

میں جب گاؤں میں رہتا تھا تو میٹھا بولتا تھا

وہ اب بھی لوگوں کو دریا دکھا کر کہتی ہو گی 

وہ ایسے شور کرتا تھا،۔ وہ اتنا بولتا تھا

Monday, 28 June 2021

عجب ہیں جن کو محبت گناہ لگتی ہے

 سفید چیز بهی ان کو سیاه لگتی ہے

عجب ہیں جن کو محبت گناہ لگتی ہے

سنو ہر ایک شکستہ بدن سے مت کھیلو

کسی کسی کی بڑی سخت آہ لگتی ہے

کسی کا رونا بھی لگتا ہے قہقہہ تم کو

کسی کی آہ بھی اب تم کو واہ لگتی ہے 

Tuesday, 11 October 2016

چپ چاپ دکھ سہو نہ شکایت کرو اسے

چپ چاپ دکھ سہو نہ شکایت کرو اسے
کس نے تمہیں کہا تھا محبت کرو اسے
یہ کیا کہ ہر کسی سے ہیں اس کے ہی تذکرے
رسوا یوں سب کے سامنے اب مت کرو اسے 
دنیا تو کہہ رہی ہے محبت فریب ہے
اب جا کے زخمِ دل کی وضاحت کرو اسے

یادوں میں صفی اس کی نہ تم اشک بہاؤ

یادوں میں صفی اس کی نہ تم اشک بہاؤ
اک عام سی لڑکی تھی اسے بھول بھی جاؤ
تجدیدِ رفاقت ہے تو کاہے کی نِدامت
ملنا ہے تو پھر ہاتھ جھجک کر نہ ملاؤ 
خنجر سے لگے ہوں تو وہ بھر جاتے ہیں اک دن
بھرتے نہیں لیکن کبھی الفاظ کے گھاؤ

Saturday, 6 June 2015

جھیل آنکھیں تھیں گلابوں سی جبیں رکھتا تھا

جھیل آنکھیں تھیں گلابوں سی جبِیں رکھتا تھا
شام زلفوں میں چھپا کر وہ کہیں رکھتا تھا
دھوپ چھاؤں سا وہ اِک شخص مِرے شہر میں تھا
دل میں ہاں اور وہ ہونٹوں پہ نہیں رکھتا تھا
اس کے ہونٹوں پہ مہکتے تھے وفاؤں کے کنول
اپنی آنکھوں میں جو اشکوں کے نگِیں رکھتا تھا

دل کا کہنا مان لیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

دل کا کہنا مان لیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں
تنہائی کا زہر پیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں
ہم نے جب کچھ کہنا چاہا، تم نے بھی آوارہ جانا
تنگ آ کر ہونٹوں کو سِیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں
یہ دنیا گورکھ دھندہ ہے، لوگ یہاں کیا کچھ نہیں کرتے
ہم نے بس اِک پیار کیا تو لوگوں نے سو سو باتیں کیں

Friday, 24 January 2014

مرضی ہے اس کی مجھ سے محبت نہیں کرے

مرضی ہے اس کی مجھ سے محبت نہیں کرے
 لیکن وہ میرے شہر سے ہجرت نہیں کرے
کہنا اسے کہ اپنی محبت نہیں ہے جرم
 لوگوں کو زخمِ دل کی وضاحت نہیں کرے
اِک شخص کی جدائی کوئی سانحہ نہیں
 اتنی سی بات پر وہ قیامت نہیں کرے

عبث ہم خاک کے پتلے نگوں تقدیر کیا کرتے

عبث ہم خاک کے پُتلے، نِگوں تقدیر کیا کرتے
مقدر میں نہیں تھا جو اُسے تسخیر کیا کرتے
نہیں تھا ہاتھ میں جس کے ہمارے درد کا درماں
دِکھا کر زخم ہم اپنا اُسے دل گیر کیا کرتے
ہمارے درمیاں تھا فاصلہ اِک ہاتھ کا، لیکن
پڑی تھی پاؤں میں رسموں کی جو زنجیر کیا کرتے

روتے روتے ہنسنے لگو گے ہنستے ہنستے رو جاؤ گے

روتے روتے ہنسنے لگو گے، ہنستے ہنستے رو جاؤ گے
پیار کسی سے کر کے دیکھو، میرے جیسے ہو جاؤ گے
کون ہے تم سے پہلے جس نے، غم کی ناؤ پار لگائی
اک دن تم بھی بوجھ غموں کا، ڈھوتے ڈھوتے سو جاؤ گے
جب بھی مجھ سے تم ملتے ہو، درد سنانے لگ جاتے ہو
ہم نے اپنا درد سنایا، رہ نہ سکو گے، رو جاؤ گے

Wednesday, 22 August 2012

کیا بھروسا ہے انہیں چھوڑ کے لاچار نہ جا

کیا بھروسا ہے اِنہیں چھوڑ کے لاچار نہ جا
بِن ترے مر ہی نہ جائیں ترے بیمار، نہ جا
مُجھ کو روکا تھا سبھی نے کہ ترے کُوچے میں
جو بھی جاتا ہے، وہ ہوتا ہے گرفتار، نہ جا
ناخدا سے بھی مراسم نہیں اچھے تیرے
اور ٹُوٹے ہوئے کشتی کے بھی پتوار، نہ جا

ہم نے ترے ملال سے رشتہ بحال کر لیا

ہم نے ترے ملال سے رِشتہ بحال کر لیا
سارا جہاں بھلا دیا، تیرا خیال کر لیا
شہرِ غمِ جہاں میں تھے سو سو طرح کے غم، مگر
ہم نے پسند جانِ جاں! تیرا ملال کر لیا
تیرے بھی لَب ہِلّے نہیں، میرے بھی لَب ہِلّے نہیں
تُو نے جواب دے دیا، میں نے سوال کر لیا

راستہ بدلنے تک

راستہ بدلنے تک

اوٹ میں محبت کی
چُھپ کے وار کرنے کا
اِس قدر مہارت سے
کھیل اُس نے کھیلا تھا
بے خبر رہا ہوں میں
اَنت چال چلنے تک
راستہ بدلنے تک

اس سنگ سے بھی پھوٹی ہے کیا آبشار دیکھ

اس سنگ سے بھی پھوٹی ہے کیا آبشار دیکھ
آنکھیں نہ موند، اس کو ذرا اشکبار دیکھ
وابستہ تیرے ساتھ ہیں اِس دل کی دھڑکنیں
کتنا ہے دِل پہ میرے تجھے اختیار دیکھ
ہوتا نہیں ہے یہ بھی تری یاد میں مُخل
زنجیر ہو گیا ہے غمِ روزگار دیکھ

وائرس

وائرس

دِل میں رہتے ہیں، چاٹتے ہیں لہُو
رَفتہ رَفتہ یہ کرتے رہتے ہیں
کھوکھلی جسم و جاں کی دِیواریں
جس طرح چاٹ لیتی ہے دِیمک
سبز اشجار کی جواں لکڑی
وائرس ہیں یہ دِل کے اَرماں بھی

صغیر صفی

بے بسی

بے بسی

کھیل ہے مقدر کا
مِلنا اور بِچھڑ جانا
زِیست کی جو گاڑی ہے
یہ تو بس مقدّر کے
راستوں پہ چلتی ہے
راستے جُدا سب کے
منزلیں الگ سب کی

ضد

ضِد

تم نے کہا تھا
یاد ہے تم کو
کہ بہت بولتے ہو تم
بس اُس دن سے
میں نے اِن ہونٹوں پر تیرے
پیار کے قُفل لگا رکھے ہیں
بولو کیا تم کھول سکو گی

صغیر صفی

تفریق

تفریق

بڑے لوگوں کے اِن اونچے چمکتے دِلنشیں بنگلوں کی
بنیادوں میں کس کا خون شامل ہے
بڑے لوگوں کی گاڑی میں
صفی پٹرول کے بدلے، یہ کس کا خون جلتا ہے
یہ مِلّیں، کارخانے کتنوں کے ارماں
دھوئیں کے سنگ اڑاتے ہیں

سادگی

سادگی

ہم تُجھ کو بھلانے نِکلے تھے
اِس کوشش میں ہم نے اپنی
جس شہر میں تیرا ڈیرہ تھا
اُس شہر کا رَستہ چھوڑ دیا
جو تیری باتیں کرتا تھا
مُنہ، ہر اُس شخص سے موڑ لیا

یہاں بھی اک دن بہار ہو گی

(مقبوضہ کشمیر میں جاری جنگِ آزادی کے پس منظر میں لِکھی گئی نظم)

یہاں بھی اِک دن بہار ہو گی

یہ رات دن تم جو جبر موسم میں صبر کے گُل کِھلا رہے ہو
یہ جو صلیبوں کے سائے میں تم وطن کے نغمے سُنا رہے ہو
یہ اپنے شانوں پہ، اپنے پیاروں کے لاشے تم جو اُٹھا رہے ہو
کہ بِیج بو کے لہُو کے لوگو! رہائی کے گُل کِھلا رہے ہو
وطن کی مٹّی میں پُھول اِک دن محبتوں کے کِھلیں گے آخر
جُدا جُدا گر ہیں آج ہم تو ضرور کل کو مِلیں گے آخر

کئی اور دکھ ہیں مجھ کو

کئی اور دکھ ہیں مجھ کو

یہ جو چاہتوں کے سپنے
مری آنکھ میں مَرے ہیں
کئی نقش اُن کے آخر
مرے دِل میں رہ گئے ہیں
یہ کدُورتوں کے گھاؤ
مَیں کہاں تلک بھلاؤں