یادوں میں صفی اس کی نہ تم اشک بہاؤ
اک عام سی لڑکی تھی اسے بھول بھی جاؤ
تجدیدِ رفاقت ہے تو کاہے کی نِدامت
ملنا ہے تو پھر ہاتھ جھجک کر نہ ملاؤ
خنجر سے لگے ہوں تو وہ بھر جاتے ہیں اک دن
ایسا نہ ہو نازک سی کلائی کو جلا لو
دامن سے مِرے تم نہ لگی آگ بجھاؤ
اس کو تو جدائی کا ذرا دکھ بھی نہیں ہے
اک تم ہو کہ دن رات صفیؔ سوگ مناؤ
صغیر صفی
No comments:
Post a Comment