Showing posts with label مبارک حیدر. Show all posts
Showing posts with label مبارک حیدر. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

کمال شب تھا کہ مجھ سے جدا ہوا نہ کبھی

 کمالِ شب تھا کہ مجھ سے جُدا ہوا نہ کبھی

میرا رفیقِ سفر جو مجھے ملا نہ کبھی

بچھڑ کے مجھ سے تجھے زخم لگ گئے کیا کیا

یہ ایک زخمِ ندامت کہ جو بھرا نہ کبھی

سُبک ہے، تر ہے، تہی ہے، خبر نہ تھی ورنہ

میں ایک پَل تیرے دامن کو چھوڑتا نہ کبھی

Sunday, 25 April 2021

دل کے چشمے؛ آفتاب آفت ہے آب کے لیے لیکن

 دل کے چشمے  


آفتاب آفت ہے آب کے لیے لیکن

میرے دل کے چشموں میں آفتاب کھلتے ہیں

میرے دل کے چشمے جو آسماں کے پیڑوں میں

سایہ سایہ بہتے ہیں

دُھوپ ان کے پانی میں خواب کی طرح عُریاں

Saturday, 24 April 2021

میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت چھیلتا ہوں

 میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت

چھیلتا ہوں

لہو لہو ان ہزار پرتوں کی تہہ میں پتھر ہوں

جانتا ہوں

یہ کہکشائیں، یہ کائناتیں یہ روشنی کے سیاہ رستے

گزر کے تیری تلاش میں ہیں

سایہ سایہ سحر سحر تنہا

 سایہ سایہ سحر سحر تنہا

نالشِ نور بے اثر، تنہا

کون ہمراز، کون رہبر تھا

میں ہی تھا اپنا ہمسفر تنہا

ہجرتِ اہلِ ہجر کا منظر

کارواں کارواں بشر تنہا

Friday, 23 April 2021

میں تیرے درد کی دوا کب تھا

 میں تیرے درد کی دوا کب تھا

اب جو بچھڑا ہے وہ مِلا کب تھا

کب دُعا کی تھی وصلِ دائم کی

ہِجر سے دل ابھی بھرا کب تھا

موت کی آرزو مِٹی کب تھی

زندگی اپنا مسئلہ کب تھا