کمالِ شب تھا کہ مجھ سے جُدا ہوا نہ کبھی
میرا رفیقِ سفر جو مجھے ملا نہ کبھی
بچھڑ کے مجھ سے تجھے زخم لگ گئے کیا کیا
یہ ایک زخمِ ندامت کہ جو بھرا نہ کبھی
سُبک ہے، تر ہے، تہی ہے، خبر نہ تھی ورنہ
میں ایک پَل تیرے دامن کو چھوڑتا نہ کبھی
کمالِ شب تھا کہ مجھ سے جُدا ہوا نہ کبھی
میرا رفیقِ سفر جو مجھے ملا نہ کبھی
بچھڑ کے مجھ سے تجھے زخم لگ گئے کیا کیا
یہ ایک زخمِ ندامت کہ جو بھرا نہ کبھی
سُبک ہے، تر ہے، تہی ہے، خبر نہ تھی ورنہ
میں ایک پَل تیرے دامن کو چھوڑتا نہ کبھی
دل کے چشمے
آفتاب آفت ہے آب کے لیے لیکن
میرے دل کے چشموں میں آفتاب کھلتے ہیں
میرے دل کے چشمے جو آسماں کے پیڑوں میں
سایہ سایہ بہتے ہیں
دُھوپ ان کے پانی میں خواب کی طرح عُریاں
میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت
چھیلتا ہوں
لہو لہو ان ہزار پرتوں کی تہہ میں پتھر ہوں
جانتا ہوں
یہ کہکشائیں، یہ کائناتیں یہ روشنی کے سیاہ رستے
گزر کے تیری تلاش میں ہیں
سایہ سایہ سحر سحر تنہا
نالشِ نور بے اثر، تنہا
کون ہمراز، کون رہبر تھا
میں ہی تھا اپنا ہمسفر تنہا
ہجرتِ اہلِ ہجر کا منظر
کارواں کارواں بشر تنہا
میں تیرے درد کی دوا کب تھا
اب جو بچھڑا ہے وہ مِلا کب تھا
کب دُعا کی تھی وصلِ دائم کی
ہِجر سے دل ابھی بھرا کب تھا
موت کی آرزو مِٹی کب تھی
زندگی اپنا مسئلہ کب تھا