Saturday, 24 April 2021

میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت چھیلتا ہوں

 میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت

چھیلتا ہوں

لہو لہو ان ہزار پرتوں کی تہہ میں پتھر ہوں

جانتا ہوں

یہ کہکشائیں، یہ کائناتیں یہ روشنی کے سیاہ رستے

گزر کے تیری تلاش میں ہیں

کہ ہو نہ ہو تم وہاں کہیں میری منتظر ہو

مجھے یقیں ہے کہ تم میری بات سن رہی ہو

مگر نہیں ہو، کہ یہ جو تم ہو، یہ تم نہیں ہو

مِری انا کا کوئی نگر ہو

کہ جس کے روشن سیاہ کوچوں میں

سر کٹے اجنبی بھرے ہیں

میں روح کے ریشمی لبادے ہٹا کے خود سے ملوں گا لیکن

مجھے خبر ہے کہ تم وہاں بھی نہیں ملو گی

کہ تم پرستش کی آرزو کا کوئی بھنور ہو

کوئی خداوند لب ملے تو

کہ اپنی بنجر ادا کے مندر میں مورتی کی طرح کھڑی ہو

ہزار صدیوں سے راہ تک تک کے جم گئی ہو


مبارک حیدر

No comments:

Post a Comment