Showing posts with label عدنان محسن. Show all posts
Showing posts with label عدنان محسن. Show all posts

Wednesday, 10 July 2024

اگر رسول کی تصویر بول پڑتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اگر رسول کی تصویر بول پڑتی ہے

اذاں کے روپ میں تکبیر بول پڑتی ہے

بتا رہے ہیں زمانے کو بیٹے راہب کے

حسینؑ بولے تو تقدیر بول پڑتی ہے

زمین کانپنے لگتی ہے اس کی ہیبت سے

کبھی جو غازیؑ کی شمشیر بول پڑتی ہے

Thursday, 13 June 2024

مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درود میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درودﷺ میں

شامل ہیں قدسیوں کی صدائیں درودﷺ میں

آتا ہے ذکرِ آل بھی ذکرِ نبیﷺ کے بعد

دیکھی ہیں انّما کی ادائیں درودﷺ میں

مقصود ذکر ہے شۂ عصمت مآبﷺ کا

پہلے تمام لفظ نہائیں درودﷺ میں

Tuesday, 21 May 2024

گل فروشوں کی خاطر محبت کرو

 تم محبت کرو

شاہراہوں پہ ہاتھوں میں گجرے لیے 

ایک دن آپ یوں ہم کو مل جائیں گے

ہم نے سوچا نہ تھا

گنگناتے ہوئے گاڑیوں کی طرف دوڑتے 

گل فروشوں کی خاطر محبت کرو

چائے خانوں کے دروازوں پر منتظر

Friday, 19 May 2023

بھلے لگی ہو طبیعت مگر غزل نہ کہو

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


بھلے لگی ہو طبیعت مگر غزل نہ کہو

عزا کے دن ہیں مِرے دوست، آج کل نہ کہو

اگر نماز کو کہتے ہو نیند سے بہتر

صدائے گریہ کو آرام کا خلل نہ کہو

سلام کہنے کی نیت کرو تو یاد رہے

کبھی حسین پہ مرنے کو تم اجل نہ کہو

Thursday, 18 May 2023

سناں کی نوک پہ آغاز اک خطاب ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت سلام


سِناں کی نوک پہ آغاز اک خطاب ہوا

ستم کی ہار ہوئی، صبر کامیاب ہوا

دمشق و کوفہ و یثرب میں جو چھپایا گیا

وہ بُغض آ کے سرِ دشت بے نقاب ہوا

اسی کے نور کا پہرہ تھا سبز خیموں پر 

لبِ فرات جو مہتاب محوِ خواب ہوا

Wednesday, 12 April 2023

خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

منقبت بر مولا علیؑ


خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے

مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے

دودھ کا کُوزہ چھوڑ دیا قاتل کی پیاس بُجھانے کو

حیدرؑ نے افطار کیا تھا آخری روزہ پانی سے

دروازے نے شاہِ زمن کا دامن تھام کے بین کیا

آپؑ کی رخصت بھر دے گی اس آنگن کو ویرانی سے

Sunday, 26 February 2023

تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں

 تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں

پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور پیاسے مر جاتے ہیں

وقت مقام کی پیشانی پر ایسی خراشیں کھینچتا ہے

شہر سے جانے والے شہر میں لوٹیں تو ڈر جاتے ہیں

ان آنکھوں کا  اک بوسہ لفظوں کو خوشبو دیتا ہے

ان ہونٹوں کے رنگ بکھر کر منظر منظر جاتے ہیں

Sunday, 1 January 2023

شکریہ یار دل دکھانے کا

 شکریہ یار! دل دُکھانے کا

پہلے یہ کام تھا زمانے کا

روز ہوتا ہے سامنا دکھ سے

جیسے اک فرد ہو گھرانے کا

تو مجھے گنگنا اکیلے میں

انترا ہوں اداس گانے کا

Thursday, 22 December 2022

غور سے قافلہ سالار کو دیکھا میں نے

 غور سے قافلہ سالار کو دیکھا میں نے

اس کے چہرے پہ لکھی ہار کو دیکھا میں نے

ریت پڑنے لگی اڑ اڑ کے مِری آنکھوں میں

جب تِرے بھیگتے رخسار کو دیکھا میں نے

پہلے دیکھا کسی ناراض مسیحا کی طرف

بارہا پھر دلِ بیمار کو دیکھا میں نے

Wednesday, 7 December 2022

قسمت سنوارنے کے سبھی گر سکھائیں گے

 قسمت سنوارنے کے سبھی گر سکھائیں گے

شبیرؑ کا مزاج تمہیں حُر بتائیں گے

فرشِ عزا کی خاک لگا لو جبین پر

ان کنکروں کو شاہِ نجف دُر بنائیں گے

بیدار ہو گی تیغِ علیؑ پھر نیام میں

پہلے حُسینؑ اپنے بہادر سُلائیں گے

Monday, 21 November 2022

ترے لہو نے غبار گماں کو صاف کیا

 تِرے لہو نے غبارِ گُماں کو صاف کیا

تِری نظر پہ حقیقت نے انکشاف کیا

شکستہ جسم تِری قبلہ گاہی پر میں نثار

بدن دریدہ فرس نے تِرا طواف کیا

بکھر گیا تھا سرِ دشت کوئی مصحفِ گل

ہوا نے ریت کو ہر برگ کا غلاف کیا

Thursday, 8 September 2022

مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درود میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درود میں

شامل ہیں قدسیوں کی صدائیں درود میں

آتا ہے ذکرِ آلؑ بھی ذکرِ نبیﷺ کے بعد

دیکھی ہیں انّما کی ادائیں درود میں

مقصود ذکر ہے شہِ عصمت مآبؐ کا

پہلے تمام لفظ نہائیں درودﷺ میں

Sunday, 17 July 2022

تیرے میرے درمیاں کچھ بھی نہیں

 تیرے میرے درمیاں


تیرے میرے درمیاں اک نیند کی دیوار ہے

نیند جس کے اک طرف

موندی ہوئی آنکھوں کے کونوں پر لرزتے اشک ہیں

دوسری جانب

سنہرے بادلوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا مہتاب ہے

Wednesday, 29 June 2022

بدن کے طاق پہ کچھ دیر جل کے دیکھ مجھے

 بدن کے طاق پہ کچھ دیر جل کے دیکھ مجھے

کبھی چراغ کے پیکر میں ڈھل کے دیکھ مجھے

تجھے علیل نہ کر دے کہیں یہ چارہ گری

مجھے سنبھالنے والے! سنبھل کے دیکھ مجھے

میں دھوپ بن کے تِرے صحن میں اترتا ہوں

تُو خواب گاہ سے باہر نکل کے دیکھ مجھے

Monday, 11 April 2022

تیرے میرے درمیاں اک نیند کی دیوار ہے

 تیرے میرے درمیاں


تیرے میرے درمیاں اک نیند کی دیوار ہے

نیند جس کے اک طرف

موندی ہوئی آنکھوں کے کونوں پر لرزتے اشک ہیں

دوسری جانب

سنہرے بادلوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا مہتاب ہے

Friday, 25 March 2022

تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں

 تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں

پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور پیاسے مر جاتے ہیں

وقت مقام کی پیشانی پر ایسی خراشیں کھینچتا ہے

شہر سے جانے والے شہر میں لوٹیں تو ڈر جاتے ہیں

ان آنکھوں کا  اک بوسہ لفظوں کو خوشبو دیتا ہے

ان ہونٹوں کے رنگ بکھر کر منظر منظر جاتے ہیں

Tuesday, 15 March 2022

الوداعی ملاقات کے بعد

 الوداعی ملاقات کے بعد

بے یقینی کے زینے پہ چلتے ہوئے

اس نے باہر قدم جو نکالا

تو کیفے کی دیوار سے دیکھتی 

مونا لیزا کے چہرے پہ 

صدیوں سے پھیلا تبسم بھی

Friday, 21 January 2022

جس روز یہ دیوانہ ترے در سے اٹھے گا

جس روز یہ دیوانہ تِرے در سے اٹھے گا

نوحہ تِری دہلیز کے پتھر سے اٹھے گا

اک رات ان آنکھوں کے دِیے بجھنے لگیں گے

اک رات دھواں خواب کے منظر سے اٹھے گا

لہروں کا سکوں دیکھ کے غافل نہیں ہونا

طوفان کی فطرت ہے وہ اندر سے اٹھے گا

Tuesday, 8 June 2021

تمہارے پہلو میں جو ہماری جگہ کھڑا ہے

 تمہارے پہلو میں جو ہماری جگہ کھڑا ہے

اسے بتاؤ وہ شخص کس کی جگہ کھڑا ہے

ہمارے شانوں پہ پیر رکھے ہوئے ہیں اس نے

وہ پست قامت ہے لیکن اونچی جگہ کھڑا ہے

تمہاری رُخصت سے ہم بھلا کیوں اکیلے پڑتے

تمہارا دُکھ آج تک تمہاری جگہ کھڑا ہے

Sunday, 6 June 2021

گلاب جسم تھا اور اسم تھا صبا اس کا

 گلاب جسم تھا اور اِسم تھا صبا اس کا

ہمیں ہوا نے فراہم کیا پتا اس کا

وہ ناریل کی مہک ساتھ لے کے آئی تھی

قیام ساحلی جنگل کے پار تھا اس کا

ٹھہر کے تتلیاں تکتی تھیں سرخ ہونٹوں کو

اُتر کے سنتی تھی ہر کُونج قہقہہ اس کا