عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اگر رسول کی تصویر بول پڑتی ہے
اذاں کے روپ میں تکبیر بول پڑتی ہے
بتا رہے ہیں زمانے کو بیٹے راہب کے
حسینؑ بولے تو تقدیر بول پڑتی ہے
زمین کانپنے لگتی ہے اس کی ہیبت سے
کبھی جو غازیؑ کی شمشیر بول پڑتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اگر رسول کی تصویر بول پڑتی ہے
اذاں کے روپ میں تکبیر بول پڑتی ہے
بتا رہے ہیں زمانے کو بیٹے راہب کے
حسینؑ بولے تو تقدیر بول پڑتی ہے
زمین کانپنے لگتی ہے اس کی ہیبت سے
کبھی جو غازیؑ کی شمشیر بول پڑتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درودﷺ میں
شامل ہیں قدسیوں کی صدائیں درودﷺ میں
آتا ہے ذکرِ آل بھی ذکرِ نبیﷺ کے بعد
دیکھی ہیں انّما کی ادائیں درودﷺ میں
مقصود ذکر ہے شۂ عصمت مآبﷺ کا
پہلے تمام لفظ نہائیں درودﷺ میں
تم محبت کرو
شاہراہوں پہ ہاتھوں میں گجرے لیے
ایک دن آپ یوں ہم کو مل جائیں گے
ہم نے سوچا نہ تھا
گنگناتے ہوئے گاڑیوں کی طرف دوڑتے
گل فروشوں کی خاطر محبت کرو
چائے خانوں کے دروازوں پر منتظر
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
بھلے لگی ہو طبیعت مگر غزل نہ کہو
عزا کے دن ہیں مِرے دوست، آج کل نہ کہو
اگر نماز کو کہتے ہو نیند سے بہتر
صدائے گریہ کو آرام کا خلل نہ کہو
سلام کہنے کی نیت کرو تو یاد رہے
کبھی حسین پہ مرنے کو تم اجل نہ کہو
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت سلام
سِناں کی نوک پہ آغاز اک خطاب ہوا
ستم کی ہار ہوئی، صبر کامیاب ہوا
دمشق و کوفہ و یثرب میں جو چھپایا گیا
وہ بُغض آ کے سرِ دشت بے نقاب ہوا
اسی کے نور کا پہرہ تھا سبز خیموں پر
لبِ فرات جو مہتاب محوِ خواب ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منقبت بر مولا علیؑ
خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے
مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے
دودھ کا کُوزہ چھوڑ دیا قاتل کی پیاس بُجھانے کو
حیدرؑ نے افطار کیا تھا آخری روزہ پانی سے
دروازے نے شاہِ زمن کا دامن تھام کے بین کیا
آپؑ کی رخصت بھر دے گی اس آنگن کو ویرانی سے
تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں
پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور پیاسے مر جاتے ہیں
وقت مقام کی پیشانی پر ایسی خراشیں کھینچتا ہے
شہر سے جانے والے شہر میں لوٹیں تو ڈر جاتے ہیں
ان آنکھوں کا اک بوسہ لفظوں کو خوشبو دیتا ہے
ان ہونٹوں کے رنگ بکھر کر منظر منظر جاتے ہیں
شکریہ یار! دل دُکھانے کا
پہلے یہ کام تھا زمانے کا
روز ہوتا ہے سامنا دکھ سے
جیسے اک فرد ہو گھرانے کا
تو مجھے گنگنا اکیلے میں
انترا ہوں اداس گانے کا
غور سے قافلہ سالار کو دیکھا میں نے
اس کے چہرے پہ لکھی ہار کو دیکھا میں نے
ریت پڑنے لگی اڑ اڑ کے مِری آنکھوں میں
جب تِرے بھیگتے رخسار کو دیکھا میں نے
پہلے دیکھا کسی ناراض مسیحا کی طرف
بارہا پھر دلِ بیمار کو دیکھا میں نے
قسمت سنوارنے کے سبھی گر سکھائیں گے
شبیرؑ کا مزاج تمہیں حُر بتائیں گے
فرشِ عزا کی خاک لگا لو جبین پر
ان کنکروں کو شاہِ نجف دُر بنائیں گے
بیدار ہو گی تیغِ علیؑ پھر نیام میں
پہلے حُسینؑ اپنے بہادر سُلائیں گے
تِرے لہو نے غبارِ گُماں کو صاف کیا
تِری نظر پہ حقیقت نے انکشاف کیا
شکستہ جسم تِری قبلہ گاہی پر میں نثار
بدن دریدہ فرس نے تِرا طواف کیا
بکھر گیا تھا سرِ دشت کوئی مصحفِ گل
ہوا نے ریت کو ہر برگ کا غلاف کیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مہکی ہوئی ہیں نوری قبائیں درود میں
شامل ہیں قدسیوں کی صدائیں درود میں
آتا ہے ذکرِ آلؑ بھی ذکرِ نبیﷺ کے بعد
دیکھی ہیں انّما کی ادائیں درود میں
مقصود ذکر ہے شہِ عصمت مآبؐ کا
پہلے تمام لفظ نہائیں درودﷺ میں
تیرے میرے درمیاں
تیرے میرے درمیاں اک نیند کی دیوار ہے
نیند جس کے اک طرف
موندی ہوئی آنکھوں کے کونوں پر لرزتے اشک ہیں
دوسری جانب
سنہرے بادلوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا مہتاب ہے
بدن کے طاق پہ کچھ دیر جل کے دیکھ مجھے
کبھی چراغ کے پیکر میں ڈھل کے دیکھ مجھے
تجھے علیل نہ کر دے کہیں یہ چارہ گری
مجھے سنبھالنے والے! سنبھل کے دیکھ مجھے
میں دھوپ بن کے تِرے صحن میں اترتا ہوں
تُو خواب گاہ سے باہر نکل کے دیکھ مجھے
تیرے میرے درمیاں
تیرے میرے درمیاں اک نیند کی دیوار ہے
نیند جس کے اک طرف
موندی ہوئی آنکھوں کے کونوں پر لرزتے اشک ہیں
دوسری جانب
سنہرے بادلوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا مہتاب ہے
تشنہ لبوں کے خالی کوزے اشکوں سے بھر جاتے ہیں
پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور پیاسے مر جاتے ہیں
وقت مقام کی پیشانی پر ایسی خراشیں کھینچتا ہے
شہر سے جانے والے شہر میں لوٹیں تو ڈر جاتے ہیں
ان آنکھوں کا اک بوسہ لفظوں کو خوشبو دیتا ہے
ان ہونٹوں کے رنگ بکھر کر منظر منظر جاتے ہیں
الوداعی ملاقات کے بعد
بے یقینی کے زینے پہ چلتے ہوئے
اس نے باہر قدم جو نکالا
تو کیفے کی دیوار سے دیکھتی
مونا لیزا کے چہرے پہ
صدیوں سے پھیلا تبسم بھی
جس روز یہ دیوانہ تِرے در سے اٹھے گا
نوحہ تِری دہلیز کے پتھر سے اٹھے گا
اک رات ان آنکھوں کے دِیے بجھنے لگیں گے
اک رات دھواں خواب کے منظر سے اٹھے گا
لہروں کا سکوں دیکھ کے غافل نہیں ہونا
طوفان کی فطرت ہے وہ اندر سے اٹھے گا
تمہارے پہلو میں جو ہماری جگہ کھڑا ہے
اسے بتاؤ وہ شخص کس کی جگہ کھڑا ہے
ہمارے شانوں پہ پیر رکھے ہوئے ہیں اس نے
وہ پست قامت ہے لیکن اونچی جگہ کھڑا ہے
تمہاری رُخصت سے ہم بھلا کیوں اکیلے پڑتے
تمہارا دُکھ آج تک تمہاری جگہ کھڑا ہے
گلاب جسم تھا اور اِسم تھا صبا اس کا
ہمیں ہوا نے فراہم کیا پتا اس کا
وہ ناریل کی مہک ساتھ لے کے آئی تھی
قیام ساحلی جنگل کے پار تھا اس کا
ٹھہر کے تتلیاں تکتی تھیں سرخ ہونٹوں کو
اُتر کے سنتی تھی ہر کُونج قہقہہ اس کا