Wednesday, 12 April 2023

خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

منقبت بر مولا علیؑ


خون کا اک فوارہ پھوٹا نور بھری پیشانی سے

مسجد کا ماحول اچانک سُرخ ہوا نورانی سے

دودھ کا کُوزہ چھوڑ دیا قاتل کی پیاس بُجھانے کو

حیدرؑ نے افطار کیا تھا آخری روزہ پانی سے

دروازے نے شاہِ زمن کا دامن تھام کے بین کیا

آپؑ کی رخصت بھر دے گی اس آنگن کو ویرانی سے

وہ اس واسطے ابنِ ابو طالبؑ کے خون کی پیاسی تھی

اس نے کیا آگاہ بشر کو دنیا کی ارزانی سے

فُزت وَربِ الکعبہ کا اعلان گواہی دیتا ہے

شہرِ بقا کے فرمانروا کا کوچ ہے دارِ فانی سے

بیٹیاں باپ کا سرخ عمامہ دیکھ کے آہیں بھرتی ہیں

بیٹے باپ کے زخموں کو دھوتے ہیں اشک فشانی سے

گھر کے در و دیوار سے ظاہر تھے آثار یتیمی کے

عید کے دن بھی گونج رہا تھا کوفہ نوحہ خوانی سے


عدنان محسن

No comments:

Post a Comment