عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہو شوق کیوں نہ نعت رسولؐ دو سرا کا
مضمون ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
تھی بعثت رسولﷺ خداوند کو منظور
تھا پھل وہ بشارت کا نتیجہ تھا دعا کا
پہنچا یا ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہوکم عرش سے کیوں غار حرا کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہو شوق کیوں نہ نعت رسولؐ دو سرا کا
مضمون ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
تھی بعثت رسولﷺ خداوند کو منظور
تھا پھل وہ بشارت کا نتیجہ تھا دعا کا
پہنچا یا ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہوکم عرش سے کیوں غار حرا کا
کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے
قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے
منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم
یہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے
ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا
نزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے
یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ
آخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤ
صحبت لطف میں لو نام نہ غیروں کا کبھی
دل میں عاشق کے نہ تم آگ لگاؤ آؤ
بے بنے ہی بہتوں کو ہے بگاڑا اس نے
اپنی کاکل کو بہت اب نہ بناؤ آؤ
الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے
تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے
تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے
اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے
دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں
دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے
خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا
یہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہارا
بتو شوق دیدار سے سر نہ چڑھنا
نظارا کسی کا تماشا تمہارا
بڑے با حیا اور پردہ نشیں ہو
ہے ہر کو و برزن میں چرچا تمہارا
بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر
چرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پر
طشت از بام نہ کرنا کہیں راز الفت
نہ اشارے کرو اے شوخ ادا کوٹھے پر
ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے
بے تکلف نہ یوں کنکوے اڑا کوٹھے پر
کیا حُسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا
کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا
تقدیر اسی کی ہے، نصیبہ ہے اسی کا
جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا
تا زیست نہ ٹوٹے وہ مِرا عہدِ وفا ہے
تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا
آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے
درد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھے
آپ کی یاد میں ہم اے صنم غفلت کیش
ایسے بیٹھے کہ قیامت ہی اٹھا کے اٹھے
ایک دزدیدہ نظر سے مِرا دل چھین کے واہ
تم کدھر کو مِری جاں آنکھ بچا کے اٹھے