Showing posts with label کیفی دہلوی. Show all posts
Showing posts with label کیفی دہلوی. Show all posts

Wednesday, 24 July 2024

ہو شوق کیوں نہ نعت رسول دو سرا کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہو شوق کیوں نہ نعت رسولؐ دو سرا کا

مضمون ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا

تھی بعثت رسولﷺ خداوند کو منظور

تھا پھل وہ بشارت کا نتیجہ تھا دعا کا

پہنچا یا ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو

پھر رتبہ ہوکم عرش سے کیوں غار حرا کا

Wednesday, 19 May 2021

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

 کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم

یہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے

ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا

نزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے

Saturday, 15 May 2021

یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ

 یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ

آخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤ

صحبت لطف میں لو نام نہ غیروں کا کبھی

دل میں عاشق کے نہ تم آگ لگاؤ آؤ

بے‌ بنے ہی بہتوں کو ہے بگاڑا اس نے

اپنی کاکل کو بہت اب نہ بناؤ آؤ

Friday, 14 May 2021

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

 الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے

تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے

اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے

دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں

دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے

Thursday, 13 May 2021

خدا بھی طرفدار نکلا تمہارا

 خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا

یہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہارا

بتو شوق دیدار سے سر نہ چڑھنا

نظارا کسی کا تماشا تمہارا

بڑے با حیا اور پردہ نشیں ہو

ہے ہر کو و برزن میں چرچا تمہارا

Wednesday, 12 May 2021

بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

 بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

چرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پر

طشت از بام نہ کرنا کہیں راز الفت

نہ اشارے کرو اے شوخ ادا کوٹھے پر

ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے

بے تکلف نہ یوں کنکوے اڑا کوٹھے پر

کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا

 کیا حُسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا

کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا

تقدیر اسی کی ہے، نصیبہ ہے اسی کا

جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا

تا زیست نہ ٹوٹے وہ مِرا عہدِ وفا ہے

تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا

آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے

 آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے

درد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھے

آپ کی یاد میں ہم اے صنم غفلت کیش

ایسے بیٹھے کہ قیامت ہی اٹھا کے اٹھے

ایک دزدیدہ نظر سے مِرا دل چھین کے واہ

تم کدھر کو مِری جاں آنکھ بچا کے اٹھے