کیا حُسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا
کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا
تقدیر اسی کی ہے، نصیبہ ہے اسی کا
جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا
تا زیست نہ ٹوٹے وہ مِرا عہدِ وفا ہے
تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا
برچھی کی طرح دل میں کھٹکتی ہیں ادائیں
انداز جو قاتل! دمِ رفتار ہے تیرا
کیا تُو نے کھِلائے چمن بزم میں کیفی
کیا رنگِ گل افشائیِ گُفتار ہے تیرا
کیفی دہلوی
No comments:
Post a Comment