Showing posts with label مہوش احسن. Show all posts
Showing posts with label مہوش احسن. Show all posts

Saturday, 19 September 2026

وہ ایک شخص جو پورا مرا نہیں بنتا

 وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا

خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا

کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو

کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا

ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو

عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا 

Thursday, 19 March 2026

آنکھ کے ساتھ کسی دید کا وعدہ باندھیں

 جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں

اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں

میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں

کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں

خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی 

اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں

Wednesday, 12 June 2024

الحمداللہ میرے لیے کائنات ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الحمداللہ میرے لیے کائنات ہے

جو ڈائری میں پاک محمدؐ کی نعت ہے

اک لفظِ نعت اترا جبینِ دماغ پر

یہ عشقِ با مراد کی پہلی زکوات ہے

تنہائی کے خیال سے ہٹ کر پڑھوں درود

اس کام میں خدا بھی مِرے ساتھ ساتھ ہے

Monday, 10 June 2024

تمہارے درد کی نعمت تو پھر اضافی ہے

 مرے مزاج کی تلخی ہی مجھ پہ کافی ہے 

تمہارے درد کی نعمت تو پھر اضافی ہے

خدا خدا ہے مسلط نہ کر کسی پہ خدا 

وہ بات رہنے دے جو بات اختلافی ہے 

میں روشنی کے تعاقب میں ہوں اندھیرے میں

دیا جلا کے بجھانا بھی تو معافی ہے 

Tuesday, 4 June 2024

بات سے بات نکلتی ہی گئی بات کے بعد

 بات سے بات نکلتی ہی گئی بات کے بعد

عشق بڑھتا ہی گیا اس سے ملاقات کے بعد

چھوڑتے وقت پلٹ کر بھی نہ دیکھا اس کو 

جس سے قسمت نے ملایا تھا مناجات کے بعد

اب وہ مایوسی کا عالم ہے کہ دل ڈرتا ہے

کیا خبر دن بھی اندھیرا ہو سیاہ رات کے بعد