وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا
خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا
کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو
کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا
ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو
عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا
وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا
خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا
کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو
کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا
ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو
عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا
جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں
اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں
میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں
کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں
خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی
اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الحمداللہ میرے لیے کائنات ہے
جو ڈائری میں پاک محمدؐ کی نعت ہے
اک لفظِ نعت اترا جبینِ دماغ پر
یہ عشقِ با مراد کی پہلی زکوات ہے
تنہائی کے خیال سے ہٹ کر پڑھوں درود
اس کام میں خدا بھی مِرے ساتھ ساتھ ہے
مرے مزاج کی تلخی ہی مجھ پہ کافی ہے
تمہارے درد کی نعمت تو پھر اضافی ہے
خدا خدا ہے مسلط نہ کر کسی پہ خدا
وہ بات رہنے دے جو بات اختلافی ہے
میں روشنی کے تعاقب میں ہوں اندھیرے میں
دیا جلا کے بجھانا بھی تو معافی ہے
بات سے بات نکلتی ہی گئی بات کے بعد
عشق بڑھتا ہی گیا اس سے ملاقات کے بعد
چھوڑتے وقت پلٹ کر بھی نہ دیکھا اس کو
جس سے قسمت نے ملایا تھا مناجات کے بعد
اب وہ مایوسی کا عالم ہے کہ دل ڈرتا ہے
کیا خبر دن بھی اندھیرا ہو سیاہ رات کے بعد