Thursday, 19 March 2026

آنکھ کے ساتھ کسی دید کا وعدہ باندھیں

 جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں

اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں

میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں

کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں

خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی 

اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں

موت ممکن ہے کمائی پہ کوئی بات کرے

دامنِ زیست میں سانسوں کا برادہ باندھیں

دنیا داری سے جڑے لوگ ہمیں دیکھتے ہیں

توڑ دینے کے ارادے سے ہی وعدہ باندھیں

آنکھ کا رزق مِرے اشک سے منسوب ہوا

پوری کوشش سے کسی خواب کو آدھا باندھیں

کس لیے تنگ دلی روحِ عبادت پھونکے

اپنے سجدوں سے جبینوں کو کشادہ باندھیں

سر کسی در پہ دھروں گی تو یہ اونچا ہو گا

روح سے بوجھ مودت کا زیادہ باندھیں

دنیا کا مقطع کسی خواب کی تعبیر نہ ہو

آنکھ کے ساتھ کسی دید کا وعدہ باندھیں


مہوش احسن لاشاری

No comments:

Post a Comment