جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں
اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں
میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں
کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں
خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی
اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں
موت ممکن ہے کمائی پہ کوئی بات کرے
دامنِ زیست میں سانسوں کا برادہ باندھیں
دنیا داری سے جڑے لوگ ہمیں دیکھتے ہیں
توڑ دینے کے ارادے سے ہی وعدہ باندھیں
آنکھ کا رزق مِرے اشک سے منسوب ہوا
پوری کوشش سے کسی خواب کو آدھا باندھیں
کس لیے تنگ دلی روحِ عبادت پھونکے
اپنے سجدوں سے جبینوں کو کشادہ باندھیں
سر کسی در پہ دھروں گی تو یہ اونچا ہو گا
روح سے بوجھ مودت کا زیادہ باندھیں
دنیا کا مقطع کسی خواب کی تعبیر نہ ہو
آنکھ کے ساتھ کسی دید کا وعدہ باندھیں
مہوش احسن لاشاری
No comments:
Post a Comment