Showing posts with label ناصر سلیم. Show all posts
Showing posts with label ناصر سلیم. Show all posts

Monday, 18 April 2022

تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی

 تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی

مجھ سے تنہا نہ شبِ ہجر گزاری جاتی

ایک اک کر کے چلے جاتے ہیں دشمن اور دوست

دیکھئے کب مِری باری ہے پکاری جاتی

مجھ کو درپیش ہے اک عمر سے صحرا کا سفر

توڑی پھر کیسے سرابوں سے یہ یاری جاتی

Saturday, 16 April 2022

ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے

 ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے

دل اور بھی اب تنہا ہوا ہے

پہنچی خبر میرے مرنے کی جب

سن کر کہا؛ یہ اچھا ہوا ہے

مانوس ہوں ویرانی سے اس کی

یہ دشت میرا دیکھا ہوا ہے

Friday, 15 April 2022

پیام درد دل دل سے نکل کر

 پیام درد دل دل سے نکل کر

چلا آتا ہے ہر آنسو میں ڈھل کر

بلا کی شوخیاں رفتار میں ہیں

قیامت ڈھا رہا ہے کوئی چل کر

تجلی سے ہوئے سرشار موسیٰ

تجھے کیا ملا گیا اے طور جل کر

Tuesday, 15 March 2022

سنگدل دونوں ہیں برابر کے

 سنگ دل دونوں ہیں برابر کے​

تم بھی پتھر کے، ہم بھی پتھر کے​

’’دل ہوا ہے چراغ مفلس کا‘‘​

دام کچھ اور بڑھ گئے سر کے​

اشک میرا ہے، اُن کی آنکھیں ہیں​

بوند بدلے میں ہے سمندر کے

Sunday, 6 March 2022

عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب دیکھ ذرا

 عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب، دیکھ ذرا​

مر مٹے ہیں پہ نہیں وصل کی شب، دیکھ ذرا​

​حسن کی ایک نظر حشر بپا کردے گی​

جی اٹھیں گے وہ سبھی، جان بلب، دیکھ ذرا​

​دیکھتا روز تماشا ہوں نیا میں بھی یہاں​

میرا کچھ ساتھ تو دے، تُو بھی یہ سب دیکھ ذرا

Monday, 28 February 2022

سو دریا پی چکا ہوں پھر بھی کیوں پیاسا ہوں میں

 سو دریا پی چکا ہوں پھر بھی کیوں پیاسا ہوں میں

پتی پتی پرسے شبنم چاٹتا پھرتا ہوں ہوں میں

تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو ملی

اجنبی راہوں سے ہو کر جب گزرا ہوں میں

بن چکا ہوں اب پرانے موسموں کی یادگار

زندگی کی شاخ پر سوکھا ہوا پتا ہوں میں

Sunday, 20 February 2022

ہم بیچ سکے تو بیچیں گے ہم خواب

 ہم بیچ سکے تو بیچیں گے


ہم خواب گلاب کی کیاری میں

کچھ ایسے پودے سینچیں گے

جو لوگوں کے گھر جاٸیں گے

تو ان میں تازگی لاٸیں گے

جو بام و در مہکاٸیں گے

Thursday, 17 February 2022

جو بھی کرتا ہے حفاظت دنیا میں کردار کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو بھی کرتا ہے حفاظت دنیا میں کردار کی

وہ ہی پائے گا شفاعت حشر میں سرکارﷺ کی

آج رحمت جوش میں ہے میرے ربِ غفارﷻ کی

اس سے مانگو سب دعائیں ہے گھڑی افطار کی

حسنِ یوسفؑ دیکھ کر تو کٹ گئی تھیں انگلیاں

سر ہمارے کٹ رہے ہیں چاہ میں سرکارﷺ کی

Sunday, 13 February 2022

چشم پرنم سے رواں ہیں جو دہکتی بوندیں

 چشمِ پُر نم سے رواں ہیں جو دہکتی بوندیں

کتنی آوارہ ہیں گالوں پہ ٹپکتی بوندیں

مجھ کو برسات کے موسم میں رُلا جاتی ہیں

چشمِ پُر نم میں مقید وہ بلکتی بوندیں

میری خلوت میں اٹھا دیتی ہیں طوفاں کوئی

چھیڑتی جب ہیں دریچے سے جھلکتی بوندیں

Monday, 14 December 2020

وہ ملنے کو تڑپتا ہے چلو ہم مان لیتے ہیں

 وہ ملنے کو تڑپتا ہے، چلو ہم مان لیتے ہیں

اسے مجھ سے محبت ہے یہ قصہ جان لیتے ہیں

محبت، عشق، مستی کو سمجھنا بھی ضروری ہے

ولی، مومن و غالب، میر کا دیوان لیتے ہیں

محبت کرنے والوں سے یہی پیغام ملتا ہے

جنہیں ملنے کی حسرت ہو وہ لمبی تان لیتے ہیں