تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی
مجھ سے تنہا نہ شبِ ہجر گزاری جاتی
ایک اک کر کے چلے جاتے ہیں دشمن اور دوست
دیکھئے کب مِری باری ہے پکاری جاتی
مجھ کو درپیش ہے اک عمر سے صحرا کا سفر
توڑی پھر کیسے سرابوں سے یہ یاری جاتی
تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی
مجھ سے تنہا نہ شبِ ہجر گزاری جاتی
ایک اک کر کے چلے جاتے ہیں دشمن اور دوست
دیکھئے کب مِری باری ہے پکاری جاتی
مجھ کو درپیش ہے اک عمر سے صحرا کا سفر
توڑی پھر کیسے سرابوں سے یہ یاری جاتی
ہاں تجھ سے مل کر ایسا ہوا ہے
دل اور بھی اب تنہا ہوا ہے
پہنچی خبر میرے مرنے کی جب
سن کر کہا؛ یہ اچھا ہوا ہے
مانوس ہوں ویرانی سے اس کی
یہ دشت میرا دیکھا ہوا ہے
پیام درد دل دل سے نکل کر
چلا آتا ہے ہر آنسو میں ڈھل کر
بلا کی شوخیاں رفتار میں ہیں
قیامت ڈھا رہا ہے کوئی چل کر
تجلی سے ہوئے سرشار موسیٰ
تجھے کیا ملا گیا اے طور جل کر
سنگ دل دونوں ہیں برابر کے
تم بھی پتھر کے، ہم بھی پتھر کے
’’دل ہوا ہے چراغ مفلس کا‘‘
دام کچھ اور بڑھ گئے سر کے
اشک میرا ہے، اُن کی آنکھیں ہیں
بوند بدلے میں ہے سمندر کے
عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب، دیکھ ذرا
مر مٹے ہیں پہ نہیں وصل کی شب، دیکھ ذرا
حسن کی ایک نظر حشر بپا کردے گی
جی اٹھیں گے وہ سبھی، جان بلب، دیکھ ذرا
دیکھتا روز تماشا ہوں نیا میں بھی یہاں
میرا کچھ ساتھ تو دے، تُو بھی یہ سب دیکھ ذرا
سو دریا پی چکا ہوں پھر بھی کیوں پیاسا ہوں میں
پتی پتی پرسے شبنم چاٹتا پھرتا ہوں ہوں میں
تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو ملی
اجنبی راہوں سے ہو کر جب گزرا ہوں میں
بن چکا ہوں اب پرانے موسموں کی یادگار
زندگی کی شاخ پر سوکھا ہوا پتا ہوں میں
ہم بیچ سکے تو بیچیں گے
ہم خواب گلاب کی کیاری میں
کچھ ایسے پودے سینچیں گے
جو لوگوں کے گھر جاٸیں گے
تو ان میں تازگی لاٸیں گے
جو بام و در مہکاٸیں گے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو بھی کرتا ہے حفاظت دنیا میں کردار کی
وہ ہی پائے گا شفاعت حشر میں سرکارﷺ کی
آج رحمت جوش میں ہے میرے ربِ غفارﷻ کی
اس سے مانگو سب دعائیں ہے گھڑی افطار کی
حسنِ یوسفؑ دیکھ کر تو کٹ گئی تھیں انگلیاں
سر ہمارے کٹ رہے ہیں چاہ میں سرکارﷺ کی
چشمِ پُر نم سے رواں ہیں جو دہکتی بوندیں
کتنی آوارہ ہیں گالوں پہ ٹپکتی بوندیں
مجھ کو برسات کے موسم میں رُلا جاتی ہیں
چشمِ پُر نم میں مقید وہ بلکتی بوندیں
میری خلوت میں اٹھا دیتی ہیں طوفاں کوئی
چھیڑتی جب ہیں دریچے سے جھلکتی بوندیں
وہ ملنے کو تڑپتا ہے، چلو ہم مان لیتے ہیں
اسے مجھ سے محبت ہے یہ قصہ جان لیتے ہیں
محبت، عشق، مستی کو سمجھنا بھی ضروری ہے
ولی، مومن و غالب، میر کا دیوان لیتے ہیں
محبت کرنے والوں سے یہی پیغام ملتا ہے
جنہیں ملنے کی حسرت ہو وہ لمبی تان لیتے ہیں