Sunday, 6 March 2022

عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب دیکھ ذرا

 عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب، دیکھ ذرا​

مر مٹے ہیں پہ نہیں وصل کی شب، دیکھ ذرا​

​حسن کی ایک نظر حشر بپا کردے گی​

جی اٹھیں گے وہ سبھی، جان بلب، دیکھ ذرا​

​دیکھتا روز تماشا ہوں نیا میں بھی یہاں​

میرا کچھ ساتھ تو دے، تُو بھی یہ سب دیکھ ذرا

​​جس سے ملنے کو جتن لاکھ کیے تھے میں نے​

اس سے بچھڑا ہوں تو ہے ایک سبب، دیکھ ذرا​

​ساتھ مانگا ہے تِرا، اور نہیں کچھ مطلوب​

مدعا دیکھ مِرا، میری طلب دیکھ ذرا​

​ختم ہونے کو نہیں آئے ابھی میرے الم​

چھیڑ بیٹھا ہوں مگر سازِ طرب دیکھ ذرا​

​پوچھتے کیا ہو نگاہوں کو جھکانے کا سبب​

میرا برتاؤ،۔ مِری حدِ ادب،۔ دیکھ ذرا​

​تاک میں دوست بھی دشمن بھی ہیں تیرے ناصر

اب تِرے پیش نظر ہو کہ عقب، دیکھ ذرا​


ناصر سلیم

No comments:

Post a Comment