عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات
فضلِ نو شاہِ دو عالمﷺ کے بیانات کی رات
شبِ معراج وہ اَوحیٰ کے اشارات کی رات
کون سمجھائے وہ کیسی تھی مناجات کی رات
چھائی رہتی ہیں خیالوں میں تمہاری زُلفیں
کوئی موسم ہو یہاں رہتی ہے برسات کی رات