عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دور اے دل رہیں مدینے سے
موت بہتر ہے ایسے جینے سے
انﷺ سے میرا سلام کہہ دینا
جا کے تُو اے صبا قرینے سے
ہر گل گلستاں معطر ہے
جانِ گلزارؐ کے پسینے سے
یوں چمکتے ہیں ذرّے طیبہ کے
جیسے بکھرے ہوئے نگینے سے
ذکر سرکارؐ کا کرتے ہیں مومن
کوئی مر جائے جل کے کینے سے
بارگاہِ خدا میں کیا پہونچے
گر گیا جو نبیؐ کے زینے سے
پیجیۓ چشمِ ناز سے انؐ کی
میکشوں کا بھلا ہے پینے سے
اس تجلّی کے سامنے اختر
گُل کو آنے لگے پسینے سے
اختر رضا قادری بریلوی
No comments:
Post a Comment