کسی سے کیا قرابت بڑھ گئی ہے
زمانے سے عداوت بڑھ گئی ہے
گرا ہے کوئی نظروں سے اگرچہ
کسی کی قدر و قیمت بڑھ گئی ہے
کبھی اک نام لکھا تھا ہوا میں
مِری اس سے عقیدت بڑھ گئی ہے
کسی سے کیا قرابت بڑھ گئی ہے
زمانے سے عداوت بڑھ گئی ہے
گرا ہے کوئی نظروں سے اگرچہ
کسی کی قدر و قیمت بڑھ گئی ہے
کبھی اک نام لکھا تھا ہوا میں
مِری اس سے عقیدت بڑھ گئی ہے
پھر یوں ہوا کہ ہم بھی گروہوں میں بٹ گئے
یوں ہم رہِ مراد سے خود ہی پلٹ گئے
ایسا نہیں کہ اپنی روش ہی غلط ہوئی
ہم اس غلط روش پہ ڈِھٹائی سے ڈٹ گئے
کھاتے تھے کب غنیم سے اپنے شکست ہم
اپنے تو بُرج، اپنے ہی ہاتھوں اُلٹ گئے
زمیں پر آسماں ٹھہرا ہوا ہے
یہ اس کا پاسباں ٹھہرا ہوا ہے
رکا ہوں چلتے چلتے اس لیے میں
ہوا ٹھہری، سماں ٹھہرا ہوا ہے
جو کہنا چاہتا ہوں، کہہ نہ پاؤں
نہ جانے کیوں بیاں ٹھہرا ہوا ہے
دیواروں کے حرف مٹانا ٹھیک نہیں
سچائی کو یوں جُھٹلانا ٹھیک نہیں
خود کیسے اطوار ہیں ان کے سوچیں تو
جو کہتے ہیں؛ یار زمانہ ٹھیک نہیں
آئینے اور سپنے ایک ہی جیسے ہیں
آئینوں سے جی بہلانا ٹھیک نہیں
جانے میری کیا طلب تھی اور کیا درکار تھا
زیست کا ہر ایک لمحہ باعثِ آزار تھا
ہر گلی کوچے میں یوں تو چارہ گر موجود تھے
پھر بھی اس کے شہر کا ہر آدمی بیمار تھا
کانچ کے گلدان پر بیٹھی تھی تتلی غمزدہ
پھول اور تتلی کی چاہت کا عجب اظہار تھا
زندگی کی راہوں میں یہ غبار کیسا ہے
ہر طرف زمانے میں خلفشار کیسا ہے
کیسی بادشاہی ہے، اور کہاں کی مُختاری
بس میں کچھ نہیں تو پھر اختیار کیسا ہے
جانے کس کے وعدوں پر دل کو اعتبار آیا
جانے میری نظروں کو انتظار کیسا ہے
یہ نفرت گزیدہ ہیں انسان تیرے
انہیں پیار کا معجزہ دے خدایا
ابھی شاخساروں پہ افسردگی ہے
انہیں پیرہن پھر نیا دے خدایا
تیرے پیڑ پودے کہیں مر نہ جائیں
نسیمِ سحر دے، صبا دے خدایا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
جو بھی انساں ہے مدحت سرا آپؐ کا
سچ تو یہ ہے کہ وہ پھر ہوا آپؐ کا
آپﷺ آئے نبوت مکمل ہوئی
اب تو فرمان ہے بس روا آپؐ کا
جو بھی فرما دیا وہ ہی قانون ہے
گویا دستور ہے سب کہا آپؐ کا
کاش پھر شاخِ تمنا پہ ثمر آ جائے
ختم ہو تِیرہ شبی اور سحر آ جائے
اک نیا عزم ملے گردِ مسافت سے مجھے
مجھ کو بھی پیش کوئی ایسا سفر آ جائے
آبلے پاؤں کے فریاد بہ لب ہیں کب سے
اب تو خوشبو کا جہاں، پیار نگر آ جائے