Showing posts with label عادل صدیقی. Show all posts
Showing posts with label عادل صدیقی. Show all posts

Friday, 3 November 2023

کسی سے کیا قرابت بڑھ گئی ہے

 کسی سے کیا قرابت بڑھ گئی ہے

زمانے سے عداوت بڑھ گئی ہے

گرا ہے کوئی نظروں سے اگرچہ

کسی کی قدر و قیمت بڑھ گئی ہے

کبھی اک نام لکھا تھا ہوا میں

مِری اس سے عقیدت بڑھ گئی ہے

Friday, 11 August 2023

پھر یوں ہوا کہ ہم بھی گروہوں میں بٹ گئے

 پھر یوں ہوا کہ ہم بھی گروہوں میں بٹ گئے

یوں ہم رہِ مراد سے خود ہی پلٹ گئے

ایسا نہیں کہ اپنی روش ہی غلط ہوئی

ہم اس غلط روش پہ ڈِھٹائی سے ڈٹ گئے

کھاتے تھے کب غنیم سے اپنے شکست ہم

اپنے تو بُرج، اپنے ہی ہاتھوں اُلٹ گئے

Tuesday, 1 August 2023

زمیں پر آسماں ٹھہرا ہوا ہے

 زمیں پر آسماں ٹھہرا ہوا ہے

یہ اس کا پاسباں ٹھہرا ہوا ہے

رکا ہوں چلتے چلتے اس لیے میں

ہوا ٹھہری، سماں ٹھہرا ہوا ہے

جو کہنا چاہتا ہوں، کہہ نہ پاؤں

نہ جانے کیوں بیاں ٹھہرا ہوا ہے

Monday, 17 July 2023

دیواروں کے حرف مٹانا ٹھیک نہیں

 دیواروں کے حرف مٹانا ٹھیک نہیں

سچائی کو یوں جُھٹلانا ٹھیک نہیں

خود کیسے اطوار ہیں ان کے سوچیں تو

جو کہتے ہیں؛ یار زمانہ ٹھیک نہیں

آئینے اور سپنے ایک ہی جیسے ہیں

آئینوں سے جی بہلانا ٹھیک نہیں

Tuesday, 30 May 2023

جانے میری کیا طلب تھی اور کیا درکار تھا

 جانے میری کیا طلب تھی اور کیا درکار تھا

زیست کا ہر ایک لمحہ باعثِ آزار تھا

ہر گلی کوچے میں یوں تو چارہ گر موجود تھے

پھر بھی اس کے شہر کا ہر آدمی بیمار تھا

کانچ کے گلدان پر بیٹھی تھی تتلی غمزدہ

پھول اور تتلی کی چاہت کا عجب اظہار تھا

Wednesday, 24 May 2023

زندگی کی راہوں میں یہ غبار کیسا ہے

 زندگی کی راہوں میں یہ غبار کیسا ہے

ہر طرف زمانے میں خلفشار کیسا ہے

کیسی بادشاہی ہے، اور کہاں کی مُختاری

بس میں کچھ نہیں تو پھر اختیار کیسا ہے

جانے کس کے وعدوں پر دل کو اعتبار آیا

جانے میری نظروں کو انتظار کیسا ہے

Thursday, 11 May 2023

یہ نفرت گزیدہ ہیں انسان تیرے

 یہ نفرت گزیدہ ہیں انسان تیرے

انہیں پیار کا معجزہ دے خدایا

ابھی شاخساروں پہ افسردگی ہے

انہیں پیرہن پھر نیا دے خدایا

تیرے پیڑ پودے کہیں مر نہ جائیں

نسیمِ سحر دے، صبا دے خدایا

Saturday, 6 May 2023

جو بھی انساں ہے مدحت سرا آپ کا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


جو بھی انساں ہے مدحت سرا آپؐ کا

سچ تو یہ ہے کہ وہ پھر ہوا آپؐ کا

آپﷺ آئے نبوت مکمل ہوئی

اب تو فرمان ہے بس روا آپؐ کا

جو بھی فرما دیا وہ ہی قانون ہے

گویا دستور ہے سب کہا آپؐ کا

Friday, 5 May 2023

کاش پھر شاخ تمنا پہ ثمر آ جائے

 کاش پھر شاخِ تمنا پہ ثمر آ جائے

ختم ہو تِیرہ شبی اور سحر آ جائے

اک نیا عزم ملے گردِ مسافت سے مجھے

مجھ کو بھی پیش کوئی ایسا سفر آ جائے

آبلے پاؤں کے فریاد بہ لب ہیں کب سے

اب تو خوشبو کا جہاں، پیار نگر آ جائے