کاش پھر شاخِ تمنا پہ ثمر آ جائے
ختم ہو تِیرہ شبی اور سحر آ جائے
اک نیا عزم ملے گردِ مسافت سے مجھے
مجھ کو بھی پیش کوئی ایسا سفر آ جائے
آبلے پاؤں کے فریاد بہ لب ہیں کب سے
اب تو خوشبو کا جہاں، پیار نگر آ جائے
یہ الگ بات کہ انسان بڑی چیز بھی ہے
اور جب شر پہ کبھی یہ ہی بشر آ جائے
خود کو پانے کی تڑپ دل میں لیے پھرتا ہوں
کوئی امکاں، کوئی تدبیر نظر آ جائے
کون اس شخص کو بھٹکا ہوا کہتا ہے بھلا
صبح کا بُھولا اگر شام کو گھر آ جائے
یوں تو جینے کو سبھی لوگ جیا کرتے ہیں
زیست اس کی ہے جسے اس کا ہنر آ جائے
عادل صدیقی
شبیر صدیقی
No comments:
Post a Comment