چار دن ترک مے پر یہ قائم رہیں مے گساروں کا کوئی بھروسہ نہیں
کب اُٹھا دیں قدم مے کدے کی طرف غم کے ماروں کا کوئی بھروسہ نہیں
مہکی مہکی فضا، بہکی بہکی نظر، لڑکھڑاتی زباں، ڈگمگاتے قدم
جا رہے ہیں کدھر اور پہنچیں کہاں، بادہ خواروں کا کوئی بھروسہ نہیں
دل میں بے تابیوں کا سمندر لیے، ڈھونڈنے تو چلے ہیں سکوں کی جگہ
شام ہو مے کدے میں کہ مسجد میں ہو، بے قراروں کا کوئی بھروسہ نہیں