Showing posts with label کامل چاندپوری. Show all posts
Showing posts with label کامل چاندپوری. Show all posts

Thursday, 4 April 2024

مے گساروں کا کوئی بھروسہ نہیں

 چار دن ترک مے پر یہ قائم رہیں مے گساروں کا کوئی بھروسہ نہیں

کب اُٹھا دیں قدم مے کدے کی طرف غم کے ماروں کا کوئی بھروسہ نہیں

مہکی مہکی فضا، بہکی بہکی نظر، لڑکھڑاتی زباں، ڈگمگاتے قدم

جا رہے ہیں کدھر اور پہنچیں کہاں، بادہ خواروں کا کوئی بھروسہ نہیں

دل میں بے تابیوں کا سمندر لیے، ڈھونڈنے تو چلے ہیں سکوں کی جگہ

شام ہو مے کدے میں کہ مسجد میں ہو، بے قراروں کا کوئی بھروسہ نہیں

Wednesday, 28 February 2024

یہ شام یہ بادل یہ ہوا یاد رہے گی

 یہ شام یہ بادل یہ ہوا یاد رہے گی

ساون تِری ایک ایک عطا یاد رہے گی

مستی بھرے جھونکے ہیں کہ چھلکے ہوئے ساغر

بل کھاتی ہوئی کالی گھٹا یاد رہے گی

بُھولوں گا نہ میں بھی تِری مستانہ ادا کو

تجھ کو بھی مِری لغزشِ پا یاد رہے گی

Sunday, 21 January 2024

کسی کے ساتھ وہ رنگین رات گزری ہے

کسی کے ساتھ وہ رنگین رات گُزری ہے

کہ ایک رات میں پوری حیات گزری ہے

مِلا ہے دستِ حِنائی سے بادۂ خُوش رنگ

نگاہ و دل پہ عجب واردات گزری ہے

وہ میرے پاس سے گُزرے تو یوں ہُوا محسوس

کہ خُوشبوؤں میں بسی کائنات گزری ہے

Wednesday, 15 June 2022

خوگر غم ہیں کرم کی التجا کرتے نہیں

خُوگرِ غم ہیں کرم کی اِلتجا کرتے نہیں

ہم خُوشی لے کر طبیعت بے مزا کرتے نہیں

آرزُو ہم اپنے سینے سے جُدا کرتے نہیں

مُدعا رکھتے ہیں، عرضِ مُدعا کرتے نہیں

تیری مرضی ہے جسے چاہے نواز اے چشمِ یار

ہم تو ان باتوں میں اپنا جی بُرا کرتے نہیں

Monday, 31 October 2016

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے

 میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے

یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے

کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ

وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے

ضرور اس کی توجہ کے رہبری ہو گی

نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے