بحر میں کچھ نہیں قطروں کے سوا، کیا سمجھے
ہوئے جاتے ہیں وہ قطرے بھی ہوا، کیا سمجھے
بزم میں کوئی نہیں، اور بپا ہیں ہر سُو
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا، کیا سمجھے
میکدے میں نہ صراحی ہے، نہ ساغر، نہ شراب
کوئی یہ راز کہ گردش میں ہے کیا، کیا سمجھے
بحر میں کچھ نہیں قطروں کے سوا، کیا سمجھے
ہوئے جاتے ہیں وہ قطرے بھی ہوا، کیا سمجھے
بزم میں کوئی نہیں، اور بپا ہیں ہر سُو
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا، کیا سمجھے
میکدے میں نہ صراحی ہے، نہ ساغر، نہ شراب
کوئی یہ راز کہ گردش میں ہے کیا، کیا سمجھے
کسی نے یہ سبق تکوین کا آخر لکھا کیوں ہے
کہ جس کی ابتدا کیا، متن کیونکر، انتہا کیوں ہے
پسِ پردہ دھرا کیا ہے، یہ ہے سب کھیل پردے کا
تلاشِ قصر آئینہ نظر کا اقتضا کیوں ہے
یہ صحرا بلبلوں کا ہے یہاں ہر خول خالی ہے
خیالِ قیس ہر محمل کے پیچھے دوڑتا کیوں ہے