Showing posts with label محب عارفی. Show all posts
Showing posts with label محب عارفی. Show all posts

Wednesday, 23 September 2020

حسن کو حسن نظر شوق لقا کیا سمجھے

 بحر میں کچھ نہیں قطروں کے سوا، کیا سمجھے

ہوئے جاتے ہیں وہ قطرے بھی ہوا، کیا سمجھے

بزم میں کوئی نہیں، اور بپا ہیں ہر سُو

غمزہ و عشوہ و انداز و ادا، کیا سمجھے

میکدے میں نہ صراحی ہے، نہ ساغر، نہ شراب

کوئی یہ راز کہ گردش میں ہے کیا، کیا سمجھے

یہ شکوہ ہے کہ اس گھر میں کوئی میرے سوا کیوں ہے

 کسی نے یہ سبق تکوین کا آخر لکھا کیوں ہے

کہ جس کی ابتدا کیا، متن کیونکر، انتہا کیوں ہے

پسِ پردہ دھرا کیا ہے، یہ ہے سب کھیل پردے کا

تلاشِ قصر آئینہ نظر کا اقتضا کیوں ہے

یہ صحرا بلبلوں کا ہے یہاں ہر خول خالی ہے

خیالِ قیس ہر محمل کے پیچھے دوڑتا کیوں ہے

Tuesday, 6 December 2016

چل کے دیکھوں تو کہ ملک جاوداں ہوتا ہے کیا

چل کے دیکھوں تو، کہ ملکِ جاوداں ہوتا ہے کیا
لا زمانی کیا چلن ہے، لا مکاں ہوتا ہے کیا
اے نگاہِ شوق! اس پیکر کا رازِ دل بری
خد و خالِ ظاہری سے بھی عیاں ہوتا ہے کیا
کچھ نظر آتا نہیں ہے، جب وہ آتا ہے نظر
کیوں دلِ نظارہ جُو! وہ بھی سماں ہوتا ہے کیا

اب یہاں کوئی نہیں پہلے یہاں تھا کوئی

اب یہاں کوئی نہیں، پہلے یہاں تھا کوئی
جس کے دم سے یہ مکاں اور مکاں تھا کوئی
دائرہ، دائرہ تھا جس سے، وہ مرکز نہ رہا
جب وہ تھا، نقطۂ بے قبلہ کہاں تھا کوئی
ننگِ میداں ہے جو اب، زینتِ میداں تھا کبھی
اب جہاں گم ہوں، وہاں پہلے رواں تھا کوئی

سحر ہو یا اعجاز ہو کچھ ہو خط اس نے ایسا لکھا ہے

سِحر ہو یا اعجاز ہو کچھ ہو، خط اس نے ایسا لکھا ہے
جو مضمون ہے میرے دل میں، خط میں وہی گویا لکھا ہے
پیام بین السطور میں لکھنے والے نے کیا لکھا ہے
باز آئیں اس خبط سے میرے حکیم نے یہ نسخہ لکھا ہے
کس کا یہ دیوان ہے یارو ایک ہی طرزِ ادا ہے جس کی
اگرچہ شاعر نے ہر شعر نرالا بے ہمتا لکھا ہے

Saturday, 5 November 2016

وہ گیا گھر سے مگر گھر سے گیا کچھ بھی نہیں

وہ گیا گھر سے، مگر گھر سے گیا کچھ بھی نہیں
گھر میں ہر چند کہ تھا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
جانے والے نے پہنچ کر سرِ دیوارِ افق
پوچھنے پر کہ ادھر کیا ہے، کہا، کچھ بھی نہیں
دور سے قوسِ قزح سا نظر آتا تھا جو اوج
جا کے نزدیک سے دیکھا اسے، تھا کچھ بھی نہیں

پوچھتا ہوں گردش وقت تغیر زا سے میں

پوچھتا ہوں گردشِ وقتِ تغیر زا سے میں
کیوں بدل پاتا نہیں امروز کو فردا سے میں
کیا تماشا ہے کہ خود مفہوم ہوں دنیا کا، اور
پوچھتا ہوں اپنے معنی بھی اسی دنیا سے میں
میں بھنور جس کا ہوں وہ دریا نظر آئے سراب
آ گیا ہوں تنگ اپنے دیدۂ بینا سے میں

آ کر زبان پر جو سخن ہو کے رہ گیا

آ کر زبان پر جو سخن ہو کے رہ گیا
اک شعلہ تھا کہ اپنا کفن ہو کے رہ گیا
منزل کی فکر کیا مِرے سیلِ بہار کو
ٹھہرا جہاں، وہیں پہ چمن ہو کے رہ گیا
ویرانہ کھِل اٹھا مِری وحشت کے فیض سے
کانٹوں سمیت میرا وطن ہو کے رہ گیا

Wednesday, 30 March 2016

دم بھر کو چلتے چلتے ہم کیا ٹھہر گئے ہیں

دَم بھر کو چلتے چلتے ہم کیا ٹھہر گئے ہیں
لہرا اٹھے ہیں دریا،۔ صحرا ٹھہر گئے ہیں
تھا جانے کب سے جاری رقصِ نگارِ ہستی
ہم آئے ہیں تو سارے اعضأ ٹھہر گئے ہیں
ماحول کہ سایہ ہمراہ چل رہا ہے
اے شوق چل رہے ہیں ہم یا ٹھہر گئے ہیں

اک لہر سی دیکھی گئی پائے نہ گئے ہم

اک لہر سی دیکھی گئی پائے نہ گئے ہم
حالانکہ یہیں تھے کہیں آئے نہ گئے ہم
گرداب میں کیا ہے جسے طوفان مٹائے
ہاں، گردشِ دوراں سے مٹائے نہ گئے ہم
پالا تھا اسے باد سے باراں سے بچا کر
جس آگ سے اے شمع بچائے نہ گئے ہم

کیسے کیسے ملے دن کو سائے ہمیں

کیسے کیسے ملے دن کو سائے ہمیں
رات نے بھید سارے بتائے ہمیں
رازِ ہستی تو کیا کھل سکے گا کبھی
مل گئے تھے مگر کچھ کنائے ہمیں
گرد ہیں کاروانِ گزشتہ کی ہم
کیا اب آنکھوں پہ کوئی بٹھائے ہمیں

شعلہ شوق کی آغوش میں کیوںکر آؤں

شعلۂ شوق کی آغوش میں کیوں کر آؤں
اک تمنا ہوں کہ مِٹ جاؤں اگر بر آؤں
ایک نغمہ ہوں اگر ان کے لبوں پر کھیلوں
ایک حسرت ہوں اگر خود کو میسر آؤں
ہر طرف سے مجھے کیا گھور رہی ہیں آنکھیں
خواب ہوں دیدۂ بے دار میں کیوں کر آؤں