چل کے دیکھوں تو، کہ ملکِ جاوداں ہوتا ہے کیا
لا زمانی کیا چلن ہے، لا مکاں ہوتا ہے کیا
اے نگاہِ شوق! اس پیکر کا رازِ دل بری
خد و خالِ ظاہری سے بھی عیاں ہوتا ہے کیا
کچھ نظر آتا نہیں ہے، جب وہ آتا ہے نظر
بے رخی ہی ہو گی دل سمجھا ہے جس کو التفات
مجھ کو مطلب اس سے ہے دل کو گماں ہوتا ہے کیا
اپنے اندر ہی کے نظاروں کو پاتا ہے اتھاہ
آئینے کو کیا غرض باہر کہاں ہوتا ہے کیا
مجھ کو روشن پا کے اہلِ تیرگی کیوں چھپ گئے
میں نہیں ہوتا جہاں، آخر وہاں ہوتا ہے کیا
ہم بغل ماضی و مستقبل جو آتے ہیں نظر
کچھ نہیں کھلتا کہ ان کے درمیاں ہوتا ہے کیا
پستیوں کے ہاتھ میں ہے جس روانی کی لگام
ناز فرما اس پہ دریاۓ رواں ہوتا ہے کیا
کیا ملے گا سرسری نظروں کو میرے شعر میں
ڈوب کر دیکھو محبؔ، کیسے بیاں ہوتا ہے کیا
محب عارفی
No comments:
Post a Comment