Tuesday, 6 December 2016

سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

سنبھالنے سے، طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
وہ بیکسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے
تمام آنکھوں میں آنسو ہیں، کیسے ہوتے ہیں
وہ لوگ، جن کے لیے زندگی بدلتی ہے
تمہیں خیال نہیں، کس طرح بتائیں تمہیں
کہ سانس چلتی ہے، لیکن اداس چلتی ہے
وہ چال ہو کہ بدن ہو کمان جیسی کشش
قدم سے گھات، ادا سے ادا نکلتی ہے
تمہارے شہر کا انصاف ہے عجب انصاف
اِدھر نگاہ، اُدھر زندگی بدلتی ہے
کبھی کہا کہ یہاں جان جلتی ہے اپنی 
تو پوچھتے ہیں، بھلا جان کیسے جلتی ہے
خزاںؔ سے حاصلِ ہنگامۂ بہار و خزاں
بہار پھولتی ہے،۔۔ کائنات پھلتی ہے

محبوب خزاں

No comments:

Post a Comment