Showing posts with label وہاب دانش. Show all posts
Showing posts with label وہاب دانش. Show all posts

Tuesday, 15 March 2022

راستے میں شام مل جائے گی

 ایک آدمی


راستے میں

شام مل جائے گی تنہا

تم اسے ہمراہ لے کر

گھومنا سنسان دریا کے کنارے

بیٹھ جانا

Monday, 31 January 2022

تنہائی میں جلتی بتی گھر میں ہوئی اسیر

 کئی بھیانک کالی راتوں کے اندھیارے میں

تنہائی میں جلتی بتی گھر میں ہوئی اسیر

کوئی اپنا بن دروازے دستک دے اک بار

خاموشی کی پیٹھ پہ کھینچے سیدھی ایک لکیر

سینے میں ٹوٹی ہر خواہش کی نازک ننھی نوک

کجلائی آنکھوں کے آگے خوابوں کی تعبیر

Monday, 3 January 2022

خاک کے پتلوں میں پتھر کے بدن کو واسطا

 خاک کے پتلوں میں پتھر کے بدن کو واسطا

اس صنم خانے میں ساری عمر مجھ سے ہی پڑا

جب سفر کی دھوپ میں مرجھا کے ہم دو پل رکے

ایک تنہا پیڑ🌳 تھا میری طرح جلتا ہوا

جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں شہروں کے فقیہ

کیا درختوں سے بھی چھن جائے گا عالم وجد کا

Sunday, 2 January 2022

تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتارئیے کہیں

 تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتارئیے کہیں

بلا سے گرم ریت ہو اگر نہ مل سکے زمیں

کہو تو اس لباس میں تمہارے ساتھ میں چلوں

غبار اوڑھ لوں گا میں، بدن پہ آج کچھ نہیں

بطوں کا غول اب یہاں اتر کے پا سکے گا کیا

کھڑے ہو تم جہاں پہ اب وہ نرم جھیل تھی نہیں

Wednesday, 21 July 2021

ہر روشنی کی بوند پہ لب رکھ چکی ہے رات

 ہر روشنی کی بوند پہ لب رکھ چکی ہے رات

بڑھنے لگے زمیں کی طرف تیرگی کے ہات

جنگل کھڑے ہیں بھید کے اور اجنبی شجر

شاخیں نہیں صلیب کہ دشوار ہے نجات

ہو کے کبھی اداس یہاں بیٹھتا تو تھا

چل کے کسی درخت سے پوچھیں تو اس کی بات