ایک آدمی
راستے میں
شام مل جائے گی تنہا
تم اسے ہمراہ لے کر
گھومنا سنسان دریا کے کنارے
بیٹھ جانا
ایک آدمی
راستے میں
شام مل جائے گی تنہا
تم اسے ہمراہ لے کر
گھومنا سنسان دریا کے کنارے
بیٹھ جانا
کئی بھیانک کالی راتوں کے اندھیارے میں
تنہائی میں جلتی بتی گھر میں ہوئی اسیر
کوئی اپنا بن دروازے دستک دے اک بار
خاموشی کی پیٹھ پہ کھینچے سیدھی ایک لکیر
سینے میں ٹوٹی ہر خواہش کی نازک ننھی نوک
کجلائی آنکھوں کے آگے خوابوں کی تعبیر
خاک کے پتلوں میں پتھر کے بدن کو واسطا
اس صنم خانے میں ساری عمر مجھ سے ہی پڑا
جب سفر کی دھوپ میں مرجھا کے ہم دو پل رکے
ایک تنہا پیڑ🌳 تھا میری طرح جلتا ہوا
جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں شہروں کے فقیہ
کیا درختوں سے بھی چھن جائے گا عالم وجد کا
تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتارئیے کہیں
بلا سے گرم ریت ہو اگر نہ مل سکے زمیں
کہو تو اس لباس میں تمہارے ساتھ میں چلوں
غبار اوڑھ لوں گا میں، بدن پہ آج کچھ نہیں
بطوں کا غول اب یہاں اتر کے پا سکے گا کیا
کھڑے ہو تم جہاں پہ اب وہ نرم جھیل تھی نہیں
ہر روشنی کی بوند پہ لب رکھ چکی ہے رات
بڑھنے لگے زمیں کی طرف تیرگی کے ہات
جنگل کھڑے ہیں بھید کے اور اجنبی شجر
شاخیں نہیں صلیب کہ دشوار ہے نجات
ہو کے کبھی اداس یہاں بیٹھتا تو تھا
چل کے کسی درخت سے پوچھیں تو اس کی بات