Wednesday, 21 July 2021

ہر روشنی کی بوند پہ لب رکھ چکی ہے رات

 ہر روشنی کی بوند پہ لب رکھ چکی ہے رات

بڑھنے لگے زمیں کی طرف تیرگی کے ہات

جنگل کھڑے ہیں بھید کے اور اجنبی شجر

شاخیں نہیں صلیب کہ دشوار ہے نجات

ہو کے کبھی اداس یہاں بیٹھتا تو تھا

چل کے کسی درخت سے پوچھیں تو اس کی بات

ہاتھوں میں گر نہیں تو نگاہوں کو دیجئے

اس صاحبِ نصاب بدن سے کوئی زکوٰۃ

ان پربتوں کے بیچ تھی مستور اک گپھا

پتھر کی نرمیوں میں تھی محفوظ کائنات


وہاب دانش

No comments:

Post a Comment