زندگی اپنی یہاں اپنے لیے تعزیر ہے
شوق دل میں رقص کا اور پاؤں میں زنجیر ہے
تیشۂ جمہوریت ہے اہلِ زر کے ہاتھ میں
جُوئے خُوں کو وہ بتاتے ہیں کہ جُوئے شِیر ہے
گردشِ ایّام کو اب گردشِ انساں کہیں
کرتے رہنا ہجرتیں انسان کی تقدیر ہے
زندگی اپنی یہاں اپنے لیے تعزیر ہے
شوق دل میں رقص کا اور پاؤں میں زنجیر ہے
تیشۂ جمہوریت ہے اہلِ زر کے ہاتھ میں
جُوئے خُوں کو وہ بتاتے ہیں کہ جُوئے شِیر ہے
گردشِ ایّام کو اب گردشِ انساں کہیں
کرتے رہنا ہجرتیں انسان کی تقدیر ہے
فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے
رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے
دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے
اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے
تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں
درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے
ہر جگہ نظر آیا صاحب نظر تنہا
قلب میں صدف کے بھی دیکھا ہے گہر تنہا
بجھ سکے گی کتنوں کی پیاس خون سے میرے
بے شمار تیغیں ہیں اور میرا سر تنہا
فیض کچھ تِرا بھی تھا بخشش جنوں بھی تھی
اک ہجوم تھا پیچھے ہم چلے جدھر تنہا
یاد سے تیری فضائے شب منور ہو گئی
تیری خوشبو سے مِری جاں تک معطر ہو گئی
خوں بہا ماضی کا دینا ہم پہ واجب ہو گیا
فصل اب تیغ و تبر کی بھی مقرر ہو گئی
گردش دوراں سے پسپا ہو نہیں پایا مگر
تیرے ماتھے کی شکن میرا مقدر ہو گئی
جنوں جوش عمل ہے کر نیا اس میں اثر پیدا
نئے فرہاد و تیشے ہوں نئے کوہ و کمر پیدا
بجز علم و یقیں ہوتی نہیں فکر و نظر پیدا
کہاں ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوتی ہے لہر پیدا
ریاض و سخت کوشی نے کیے ہیں دیدہ ور پیدا
صدف خون جگر سے اپنے کرتی ہے گہر پیدا