Showing posts with label وجاہت سندیلوی. Show all posts
Showing posts with label وجاہت سندیلوی. Show all posts

Friday, 14 August 2026

زندگی اپنی یہاں اپنے لئے تعزیر ہے

 زندگی اپنی یہاں اپنے لیے تعزیر ہے

شوق دل میں رقص کا اور پاؤں میں زنجیر ہے

تیشۂ جمہوریت ہے اہلِ زر کے ہاتھ میں

جُوئے خُوں کو وہ بتاتے ہیں کہ جُوئے شِیر ہے

گردشِ ایّام کو اب گردشِ انساں کہیں

کرتے رہنا ہجرتیں انسان کی تقدیر ہے

Wednesday, 18 February 2026

فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے

 فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے 

رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے 

دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے 

اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے 

تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں 

درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے 

Friday, 14 February 2025

ہر جگہ نظر آیا صاحب نظر تنہا

 ہر جگہ نظر آیا صاحب نظر تنہا 

قلب میں صدف کے بھی دیکھا ہے گہر تنہا 

بجھ سکے گی کتنوں کی پیاس خون سے میرے 

بے شمار تیغیں ہیں اور میرا سر تنہا 

فیض کچھ تِرا بھی تھا بخشش جنوں بھی تھی 

اک ہجوم تھا پیچھے ہم چلے جدھر تنہا 

Friday, 28 January 2022

یاد سے تیری فضائے شب منور ہو گئی

یاد سے تیری فضائے شب منور ہو گئی

تیری خوشبو سے مِری جاں تک معطر ہو گئی

خوں بہا ماضی کا دینا ہم پہ واجب ہو گیا

فصل اب تیغ و تبر کی بھی مقرر ہو گئی

گردش دوراں سے پسپا ہو نہیں پایا مگر

تیرے ماتھے کی شکن میرا مقدر ہو گئی

Friday, 7 January 2022

جنوں جوش عمل ہے کر نیا اس میں اثر پیدا

جنوں جوش عمل ہے کر نیا اس میں اثر پیدا 

نئے فرہاد و تیشے ہوں نئے کوہ و کمر پیدا 

بجز علم و یقیں ہوتی نہیں فکر و نظر پیدا 

کہاں ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوتی ہے لہر پیدا 

ریاض و سخت کوشی نے کیے ہیں دیدہ ور پیدا 

صدف خون جگر سے اپنے کرتی ہے گہر پیدا