فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے
رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے
دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے
اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے
تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں
درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے
موت ہے کمزور کی ارزاں ہمیشہ کی طرح
قہرمانی ہے وہی گو دوسرے عنوان سے
خون کی ہر بوند مانگے خوں بہا مقتل میں آج
کام اب بنتا نہیں ہے وعدہ و پیمان سے
جگمگاتے دیکھ لے پھر حریت کے بام و در
بعد میرے یہ رہے تھے کچھ دنوں ویران سے
امن ہو انصاف ہو اور ہو محبت کی فضا
ایک دنیا ہم بنائیں اک نئے عنوان سے
آب و گل سے دیدۂ بے دار پیدا کر دیا
ہم بھی چھوٹے زندگی کے اک بڑے احسان سے
رقص مجنوں تیشۂ فرہاد سے آباد تھے
دشت و صحرا اب تو لگتے ہیں بڑے سنسان سے
جن کے ہاتھوں شہر سارا آگ کا طوفان ہے
بزم میں بیٹھے ہیں کیسے وہ بنے انجان سے
وجاہت علی سندیلوی
No comments:
Post a Comment