Wednesday, 18 February 2026

فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے

 فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے 

رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے 

دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے 

اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے 

تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں 

درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے 

موت ہے کمزور کی ارزاں ہمیشہ کی طرح 

قہرمانی ہے وہی گو دوسرے عنوان سے 

خون کی ہر بوند مانگے خوں بہا مقتل میں آج 

کام اب بنتا نہیں ہے وعدہ و پیمان سے 

جگمگاتے دیکھ لے پھر حریت کے بام و در 

بعد میرے یہ رہے تھے کچھ دنوں ویران سے 

امن ہو انصاف ہو اور ہو محبت کی فضا 

ایک دنیا ہم بنائیں اک نئے عنوان سے 

آب و گل سے دیدۂ بے دار پیدا کر دیا 

ہم بھی چھوٹے زندگی کے اک بڑے احسان سے 

رقص مجنوں تیشۂ فرہاد سے آباد تھے 

دشت و صحرا اب تو لگتے ہیں بڑے سنسان سے 

جن کے ہاتھوں شہر سارا آگ کا طوفان ہے 

بزم میں بیٹھے ہیں کیسے وہ بنے انجان سے


وجاہت علی سندیلوی

No comments:

Post a Comment