دیکھ ناصح یہ اثر ہے تِرے سمجھانے کا
جانبِ دشتِ جنوں رُخ ہُوا دیوانے کا
دل ازل ہی سے پرستار ہے میخانے کا
ساقیا! مے کا میں طالب ہوں نہ پیمانے کا
اپنی سرشار نگاہوں سے پِلا، اے ساقی
بھول کر نام نہ لوں پھر کبھی میخانے کا
تا سحر شمع کی قسمت میں ہے جلنا ہر شب
صبر یہ کیسا پڑا دیکھیے پروانے کا
تیر نظروں سے، تبسّم سے گِراؤ بجلی
کوئی اسلوب نہ رہ جائے، ستم ڈھانے کا
ناصحا! چھوڑ اسی حال میں للہ مجھے
دل حدِ ہوش میں آتا نہیں دِیوانے کا
جستجو تیری ہے تجھ سے ہے غرض تیرا خیال
میں پرستار نہ کعبے کا نہ بُت خانے کا
کھو چکے ہوش، سرِ طُور پہنچتے ہی کلیم
ابھی عنوان ہی عنوان ہے افسانے کا
تیرے اشعار سے ثابت! جو لطافت ہے عیاں
فیض یہ حضرتِ دل ہی کے ہے کاشانے کا
ثابت خیرآبادی
No comments:
Post a Comment