Monday, 16 February 2026

لب ترستے ہیں تبسم کو اک زمانے سے

 لب ترستے ہیں تبسم کو اک زمانے سے

دردِ دل کم نہیں ہوتا ہے مسکرانے سے

امتحاں عشق میں ہم نے تو کئی بار دئیے

فرق پڑتا نہیں کچھ ان کے ستم ڈھانے سے

وحشتِ عشق میں دیوانے فنا ہوتے ہیں

یہ سبق ملتا ہے پروانوں کے جل جانے سے

دل بہل جائے گا تنہائی میں باتیں کر کے

جا کے اک بت تو اٹھا لاؤ صنم خانے سے

ہو گیا خاک نشیمن تو یہ بادل آئے

فائدہ کچھ نہیں اب کالی گھٹا چھانے سے

اے ثمر چپ رہو مت چھیڑو یہاں ذکر وفا

راز کھل جائے نہ اشکوں کے نکل جانے سے


ثمر غازیپوری

محمد مسلم صدیقی

No comments:

Post a Comment