Wednesday, 11 February 2026

عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

 فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی 


عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی


یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں

چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں

خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی

عجیب ہے یہ زندگی


یہ گال زرد زرد سے اٹے ہوئے ہیں گرد سے

ستم رسیدہ دل یہاں تڑپ رہے ہیں درد سے

یہ صورتیں کہ جن پہ ہے ستم کی داستاں لکھی

عجیب ہے یہ زندگی


ہیں بہتری کے واسطے تو یہ ستم قبول ہیں

چنیں گے پھول جان کر جو راہ میں ببول ہیں

خوشی سے غم سہیں گے ہم جو غم کے بعد ہے خوشی

عجیب ہے یہ زندگی


تنویر نقوی

No comments:

Post a Comment