Saturday, 21 February 2026

بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا

 بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا

کہ میری یادوں کے پانی سے اب وضو کرے گا

یونہی سناتے نہیں مجھ کو ہجر کے قصے

وہ شخص اپنی پہ آیا تو ہو بہو کرے گا

اتر رہا ہے فضاؤں میں زرد سا موسم

میں جانتی ہوں یہ کھیتوں کو بے نمو کرے گا

میں ہار مانی نہیں  لڑ رہی ہوں دنیا سے

جو کام کوئی نہیں کر سکا وہ تُو کرے گا

جو اس کے ہاتھ سے مہکے گا ایک دن شبنم

وہی گلاب ہی گلشن میں آبرو کرے گا


شبنم کنول

No comments:

Post a Comment