بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا
کہ میری یادوں کے پانی سے اب وضو کرے گا
یونہی سناتے نہیں مجھ کو ہجر کے قصے
وہ شخص اپنی پہ آیا تو ہو بہو کرے گا
اتر رہا ہے فضاؤں میں زرد سا موسم
میں جانتی ہوں یہ کھیتوں کو بے نمو کرے گا
میں ہار مانی نہیں لڑ رہی ہوں دنیا سے
جو کام کوئی نہیں کر سکا وہ تُو کرے گا
جو اس کے ہاتھ سے مہکے گا ایک دن شبنم
وہی گلاب ہی گلشن میں آبرو کرے گا
شبنم کنول
No comments:
Post a Comment