Thursday, 5 February 2026

ہے کوچہ الفت میں وحشت کی فراوانی

 ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی

جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی

پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی

قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی

دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے

غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی

جائے نہ مِرے سر سے سودا تِری زلفوں کا

اُلجھن ہی رہے مجھ کو کم ہو نہ پریشانی

اب نزع کی تکلیفیں برداشت نہیں ہوتیں

تم سامنے آ بیٹھو دم نکلے بآسانی

اقلیمِ محبت کی دنیا ہی نرالی ہے

نادانی ہے دانائی، دانائی ہے نادانی

ہو زیست جنہیں پیاری وہ اور کوئی ہوں گے

ہم مر کے دکھا دیں گے مرنے کی اگر ٹھانی

ہشیارئ زائد سے اچھی مِری بے ہوشی

اس دلقِ ریائی سے بہتر مِری عریانی

کیا وادئ غربت میں بچھڑی ہے یہ بیدم سے

سر پیٹتی پھرتی ہے کیوں بے سر و سامانی


بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment