نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
کسی طرح بھی پئیں ہم غرض ہے پینے سے
نہیں ہے جام تو آنکھوں سے میکشی ہو گی
تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر
تِری گلی میں جسے نیند آ گئی ہو گی
گزر ہی جائے گا دنیا سے بے طلب ہو کر
تِرے خیال سے جس دل کو دوستی ہو گی
جمال یار پہ یوں جاں نثار کرتا ہوں
فنا کے بعد فنا گھر میں روشنی ہو گی
فنا بلند شہری
No comments:
Post a Comment