Tuesday, 3 February 2026

عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا

 عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا

یہ وہ دریا تھا کہ جس کا نہ کنارہ نکلا

اک فقط تجھ سے ہی امید فراموشی تھی

تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا

جان و دل پہ مرے بن آئی ہے اس الفت میں

عشق کے سودے میں کیوں اتنا خسارہ نکلا

غم طوفاں نے ڈبویا ہے سفینہ اپنا

اس تلاطم میں بھی کوئی نہ کنارہ نکلا

اب دعا سے ہی فقط عشق کا درماں ہو تو ہو

چارہ سازوں سے نہ اس کا کوئی چارہ نکلا

سنگدل سے تری یاد آ کے جو ٹکرائی تھی

چوٹ پتھر پہ پڑی اور شرارہ نکلا

میں تو صحرا میں سرابوں سے بجھاتا ہوں پیاس

اب سمندر بھی مری پیاس سے ہارا نکلا

کب تلک قلب یہ غم یوں ہی دباتا آخر

اشک جو ٹپکا تو پھر درد ہمارا نکلا


انیس قلب

No comments:

Post a Comment