Wednesday, 11 February 2026

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے

قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے

نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے

اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم

وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

سمجھ کے تاج سلیماں حضورﷺ کی نعلین

سروں پہ رکھ کے زمانے کے تاجدار چلے

ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نذر کرتے انہیں

بس ایک دل تھا جسے کر کے ہم نثار چلے

ریاض ان کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی

وگرنہ بازی تھے ہم زندگی کی ہار چلے


ریاض الدین سہروردی

No comments:

Post a Comment