مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
وہ سسکتی ہیں تو انسانیت دم توڑتی ہے
مرنے والے کو بھلا دے سکا ہے کیا کوئی
لاش نے بس یہی کہنے کو دیا ہے دھرنا
کہ اس سماج میں انصاف مر چکا کب کا
یہ لاش منصفوں کی ہے
عمران ثاقب
No comments:
Post a Comment