Friday, 6 February 2026

پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

 پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے

پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن

یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے

اجنبی شہر میں شاید کوئی غمخوار بھی ہو

رات بھر گشت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

بستیاں بس تو گئیں ریگِ تپاں پر اشعر

دشت پھر دشت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے


علی مطہر اشعر

No comments:

Post a Comment