پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے
پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن
یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے
اجنبی شہر میں شاید کوئی غمخوار بھی ہو
رات بھر گشت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
بستیاں بس تو گئیں ریگِ تپاں پر اشعر
دشت پھر دشت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
علی مطہر اشعر
No comments:
Post a Comment