Wednesday, 4 February 2026

خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

 خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں

وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے

یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں

وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی

فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں

تم اپنے حسن پہ نازاں ہو اور اہل نظر

دل خراب کی قیمت بڑھائے جاتے ہیں

کسے خبر ہے کہ انجام آرزو کیا ہو

نصیب عشق و وفا آزمائے جاتے ہیں

کبھی تو عشق و ہوس میں بھی چاہیے یہ تمیز

اسی امید پہ صدمے اٹھائے جاتے ہیں

خرام ناز کی حشر آفرینیاں توبہ

قدم قدم پہ قیامت اٹھائے جاتے ہیں

سنا ہے اب تو ہیں رزمی بھی باریاب جمال

اس انجمن میں ہمیشہ بلائے جاتے ہیں


محمد سعید رزمی

No comments:

Post a Comment