Wednesday, 18 February 2026

غموں کا بوجھ اٹھائے چل رہی ہے اپنے سر پر زیست

 چلی ہے جانبِ صحرا ہوئی ہے گھر سے بے گھر زیست

ذرا معلوم کیجے ہو گئی ہے کیا قلندر زیست

یہ سچ ہے بلبلہ ہے آپ کا اس کی نہیں وقعت

کرو محسوس تو خود میں ہے بے شک اک سمندر زیست

تعاقب میں ہوں تیرے آج تک، تو مل نہیں پائی

تمنا ہے مری عرصے سے دیکھوں تجھ کو چھو کر زیست

خدا مشکل کرے آساں، وہ مر جاتا تو اچھا تھا

ملی ہے زیست لیکن موت سے بھی ہے یہ بد تر زیست

بڑھائے تو بڑھائے کس طرح رفتار وہ اپنی

غموں کا بوجھ اُٹھائے چل رہی ہے اپنے سر پر زیست

کہ جس سے دل تڑپ اُٹھے لہو کھولے ہوں آنکھیں نم

دکھائے گی ہمیں کب تک بتا تو ایسے منظر زیست

بنا طاعت گزاری، غرق تھی گہرے اندھیروں میں

خمار اذکار سے ہونے لگی ہے اب منور زیست

          

ریاض احمد خمار

No comments:

Post a Comment