نا آشنا
بہت سے قیمتی لمحے
جو راہ شوق میں گُزرے
جو خوابوں کے جزیرے میں
ستاروں جیسے روشن تھے
نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے
کہانی تھے، فسانہ تھے
مگر میرے لیے
بے نام خُوشیوں کا خزانہ تھے
سنو اے ہم نشیں
منظور ہیں ماضی پرستی کے مجھے طعنے
کوئی شکوہ نہیں تم سے
تمہیں ان ساعتوں کے حُسن کا ادراک کیسے ہو
کہ تم تو لمحۂ موجود کی بستی میں رہتے ہو
نسیم نازش
No comments:
Post a Comment