Wednesday, 11 February 2026

بہت سے قیمتی لمحے جو راہ شوق میں گزرے

 نا آشنا


بہت سے قیمتی لمحے

جو راہ شوق میں گُزرے

جو خوابوں کے جزیرے میں

ستاروں جیسے روشن تھے

نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے

کہانی تھے، فسانہ تھے

مگر میرے لیے

بے نام خُوشیوں کا خزانہ تھے

سنو اے ہم نشیں

منظور ہیں ماضی پرستی کے مجھے طعنے

کوئی شکوہ نہیں تم سے

تمہیں ان ساعتوں کے حُسن کا ادراک کیسے ہو

کہ تم تو لمحۂ موجود کی بستی میں رہتے ہو


نسیم نازش

No comments:

Post a Comment