Saturday, 7 February 2026

عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں

دامن تِرے دربار میں پھیلائے ہوئے ہیں

محبوب کے صدقے میں ہمیں بخش دے مولیٰ

ہم آس یہی در پہ لگائے ہوئے ہیں

تُو بخش دے ہم تیرے ہی بندے ہیں الٰہی

نادم ہیں، سیہ کاری پہ شرمائے ہوئے ہیں

ہو نظرِ تلطف مِری جانب بھی خدایا

ہم گردشِ دوران کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

درہم کی طلب ہے نہ ہے دینار کی خواہش

رحمت کے لیے ہاتھ یہ پھیلائے ہوئے ہیں

جو رب کے ہیں وہ حشر میں بھی شاد ہیں عارف

جو رب کے نہیں حشر میں گھبرائے ہوئے ہیں


عارف مصباحی نظامی

No comments:

Post a Comment