Wednesday, 4 February 2026

ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے

 ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے

کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے

یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے

کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے

اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے

یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے

دنیا کے جھمیلے ہی کچھ ایسے ہیں کہ ان کو

ہم بھول تو جاتے ہیں بھلایا نہیں کرتے

فردا پہ ہیں نظریں تو کبھی حال پہ نظریں

ماضی کو مگر مڑ کے بھی دیکھا نہیں کرتے

جن میں کہ بزرگوں کی کوئی قدر نہیں ہو

ہم ایسے گھروں میں کبھی رشتہ نہیں کرتے

بارش ہو کہ طوفان ہو یا آگ کا جنگل

ہم گھر سے نکل جائیں تو سوچا نہیں کرتے

جو خواب نظر آتا ہے سرسبز زمیں کا

اس خواب کی تعبیر بتایا نہیں کرتے

بازار میں بکتے نہیں وہ لوگ عموماً

رشتوں کا جو اپنے کبھی سودا نہیں کرتے


مشتاق صدف

No comments:

Post a Comment