Thursday, 26 February 2026

دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے

 دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے

سوچو تو آسیب پرانا لگتا ہے

پہلے بھی کب تو نے سچی بات کہی

اب کے بھی یہ ایک بہانا لگتا ہے

جانے کون سا اصلی روپ ہے ساجن کا

پل میں اپنا پھر بیگانہ لگتا ہے

بچھڑو تو اک پل کی یہ ہے یارو بات

ملنے کو تو ایک زمانہ لگتا ہے

دل کی باتیں لوگوں سے مت کاوش کہہ

لوگوں کو ہر غم افسانہ لگتا ہے


آفتاب کاوش

No comments:

Post a Comment