دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے
سوچو تو آسیب پرانا لگتا ہے
پہلے بھی کب تو نے سچی بات کہی
اب کے بھی یہ ایک بہانا لگتا ہے
جانے کون سا اصلی روپ ہے ساجن کا
پل میں اپنا پھر بیگانہ لگتا ہے
بچھڑو تو اک پل کی یہ ہے یارو بات
ملنے کو تو ایک زمانہ لگتا ہے
دل کی باتیں لوگوں سے مت کاوش کہہ
لوگوں کو ہر غم افسانہ لگتا ہے
آفتاب کاوش
No comments:
Post a Comment