آنسو ہمارے زخموں کا چارہ نہ کر سکے
مرہم کا زہر ہم بھی گوارا نہ کر سکے
بخشے ہیں زندگی نے ہمیں تلخ تجربات
ہم پھر بھی زندگی سے کنارا نہ کر سکے
مانگا تھا ہم نے بھیک میں بھولے سے ایک پھول
اہلِ چمن یہ بات گوارا نہ کر سکے
پابندیاں لگائی گئیں اس قدر کہ ہم
تنہائی میں بھی ذِکر تمہارا نہ کر سکے
غمگیں رہا بچھڑ کے میں تم سے بوجہ دل
تم بھی مِرے بغیر گزارا نہ کر سکے
غمگین قریشی
محمد رمضان
No comments:
Post a Comment