Monday, 16 February 2026

مرہم کا زہر ہم بھی گوارا نہ کر سکے

 آنسو ہمارے زخموں کا چارہ نہ کر سکے

مرہم کا زہر ہم بھی گوارا نہ کر سکے

بخشے ہیں زندگی نے ہمیں تلخ تجربات

ہم پھر بھی زندگی سے کنارا نہ کر سکے

مانگا تھا ہم نے بھیک میں بھولے سے ایک پھول

اہلِ چمن یہ بات گوارا نہ کر سکے

پابندیاں لگائی گئیں اس قدر کہ ہم

تنہائی میں بھی ذِکر تمہارا نہ کر سکے

غمگیں رہا بچھڑ کے میں تم سے بوجہ دل

تم بھی مِرے بغیر گزارا نہ کر سکے


غمگین قریشی

محمد رمضان

No comments:

Post a Comment