Tuesday, 10 February 2026

تمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا

 تمہیں جب دیکھتا ہوں تو

مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں

تمہیں سنتا ہوں 

تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں

اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے 

تمہارا نام لیتا ہوں 

تو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے

مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیں 

تمہیں چھو لوں 

تو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن

میری پوروں کو آ کر گدگداتا ہے 

تمہیں گر چوم لوں 

تو میرے ہونٹوں پر الوہی آسمانی ناچشیدہ

ذائقے یوں پھیل جاتے ہیں 

کہ اس کے بعد مجھ کو شہد بھی پھیکا سا لگتا ہے 

تمہیں جب یاد کرتا ہوں 

تو ہر ہر یاد کے صدقے میں اشکوں کے 

پرندے چوم کر آزاد کرتا ہوں 

تمہیں ہنستا ہوا سن لوں 

تو ساتوں سر سماعت میں سما کر رقص کرتے ہیں 

کبھی تم روٹھتے ہو 

تو مری سانسیں اٹکنے اور دھڑکن تھمنے لگتی ہے

تمہارے اور اپنے عشق کی ہر

کیفیت سے آشنا ہوں میں 

مگر جاناں 

تمہیں بالکل بھلا دینے کی جانے کیفیت کیا ہے 

مجھے محسوس ہوتا ہے 

کہ مرگ ذات کے احساس سے بھر جاؤں گا فوراً 

تمہیں میں بھولنا چاہوں گا

تو مر جاؤں گا فوراً


رحمان فارس

No comments:

Post a Comment