Wednesday, 18 February 2026

چھوڑ دو چند لمحوں کو تنہا مجھے اے مرے مشفق مہرباں دوستو

 اشکِ تاباں میں حُسن سحر کی جھلک، زخم دل صورتِ گلستاں دوستو

زندگی موتیوں کی جھمکتی لڑی، زندگی رنگِ گُل کا بیاں دوستو

مل گئے ہیں جو ہم اور تم راہ میں، آؤ آپس میں کچھ دیر دکھ بانٹ لیں

کس نے دیکھی ہے کل آنے والی سحر، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں دوستو

کوئے دلدار کی لالہ گوں سر زمیں، مانگتی ہے خلوصِ وفا کا یقین

اور تو کوئی سوغات ممکن نہیں،  نذر کرتے چلو نقد جاں دوستو

خیر چھٹنے لگے ہیں اندھیرے مگر، اپنے کردار پر بھی ذرا اک نظر

تم اجالوں میں بھی ڈرنا جانا کہیں، دیکھ کر اپنی پرچھائیاں دوستو

سعئ چارہ گری کے لیے شکریہ، تم سے ہو گی نہ میرے غموں کی دوا 

چھوڑ دو چند لمحوں کو تنہا مجھے، اے مرے مشفق مہرباں دوستو


ظفر نسیمی 

No comments:

Post a Comment