Monday, 2 February 2026

کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے

 کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے

مِرے زخم کا کوئی چارہ نہیں ہے

تمہارے مطابق نہیں چل سکے گا

یہ دل ہے ہمارا تمہارا نہیں ہے

یوں دیکھیں تو میرا سبھی کچھ لٹا ہے

مجھے اک طرح سے خسارا نہیں ہے

میں فرہاد و مجنوں کے جیسا نہیں تھا

سو تجھ کو سر رہ پکارا نہیں ہے

فقط ہاتھ وہم و گماں میں اٹھے ہیں

کہیں کوئی ٹوٹا ستارا نہیں ہے

سوا کوئی جس کے نہیں ہے ہمارا

وہی شخص سوہل ہمارا نہیں ہے


سوہل بریلوی

No comments:

Post a Comment