خاموشی شور کرتی ہے
کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو
جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر
تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں
سخن ایجاد کرتی ہیں
سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی
اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو
تمہاری یاد کی شمعیں جلاتی ہیں
سو پل بھر میں مسافر راستوں پر
چپ لگی خاموشیوں کے قُفل سارے
توڑ جاتی ہے
نوشابہ حفیظ ہاشمی
No comments:
Post a Comment