Sunday, 1 February 2026

خاموشی شور کرتی ہے

 خاموشی شور کرتی ہے


کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو

جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر

تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں

سخن ایجاد کرتی ہیں

سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی

اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو

تمہاری یاد کی شمعیں جلاتی ہیں

سو پل بھر میں مسافر راستوں پر

چپ لگی خاموشیوں کے قُفل سارے

توڑ جاتی ہے


نوشابہ حفیظ ہاشمی

No comments:

Post a Comment