سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں
تمام عمر کٹی دل کے داغ دھونے میں
یہ جانتی ہیں بہت دن سے انگلیاں میری
ہے کس کے لمس کی خوشبو مِرے بچھونے میں
میں آدھی رات کو بستر پہ چونک اٹھتا ہوں
سسک رہا ہوں کوئی جیسے گھر کے کونے میں
سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں
تمام عمر کٹی دل کے داغ دھونے میں
یہ جانتی ہیں بہت دن سے انگلیاں میری
ہے کس کے لمس کی خوشبو مِرے بچھونے میں
میں آدھی رات کو بستر پہ چونک اٹھتا ہوں
سسک رہا ہوں کوئی جیسے گھر کے کونے میں
فصل گل بھی آئی ہے اور پون بھی سنکی ہے
پھر بھی ان فضاؤں میں کیفیت جلن کی ہے
کیا پتہ کہ یہ کس کے پیار کا جنازہ ہے؟
لوگ یوں تو کہتے ہیں؛ پالکی دُلہن کی ہے
اف یہ کیسا صحرا ہے، ہائے کس کی تُربت ہے
آپ یہ کلی تنہا جانے کس چمن کی ہے
امن عالم کی طلبگار ہوئی ہے دنیا
دیکھیے بر سرِ پیکار ہوئی ہے دنیا
سیم و زر کے لیے انسان بھی بک جاتے ہیں
کیا کوئی مصر کا بازار ہوئی ہے دنیا
درِ جاناں تو کوئی دور نہیں ہے لیکن
راستے کا مِرے دیوار ہوئی ہے دنیا
نصاب الفت کا باب تھی وہ
ورق ورق اک کتاب تھی وہ
بیاضِ ہستی پہ آنسوؤں سے
لکھا ہوا انتساب تھی وہ
عظیم صحرائے تشنگی میں
بسیط موجِ سراب تھی وہ
دامن سے اپنے جھاڑ کے صحرائے غم کی دُھول
آؤ چلو نہ ہم بھی چنیں سر خوشی کے پھول
آخر کو مل سکی نہ بشر کو رہ نجات
یوں تو ہر ایک دور میں آتے رہے رسول
دامن بچا کے آئیو میرے مزار تک
اے جانِ نو بہار اُگے ہیں ادھر ببول