Showing posts with label رضا اشک. Show all posts
Showing posts with label رضا اشک. Show all posts

Thursday, 11 December 2025

سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں

 سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں

تمام عمر کٹی دل کے داغ دھونے میں

یہ جانتی ہیں بہت دن سے انگلیاں میری

ہے کس کے لمس کی خوشبو مِرے بچھونے میں

میں آدھی رات کو بستر پہ چونک اٹھتا ہوں

سسک رہا ہوں کوئی جیسے گھر کے کونے میں

Saturday, 22 February 2025

فصل گل بھی آئی ہے اور پون بھی سنکی ہے

 فصل گل بھی آئی ہے اور پون بھی سنکی ہے

پھر بھی ان فضاؤں میں کیفیت جلن کی ہے

کیا پتہ کہ یہ کس کے پیار کا جنازہ ہے؟

لوگ یوں تو کہتے ہیں؛ پالکی دُلہن کی ہے

اف یہ کیسا صحرا ہے، ہائے کس کی تُربت ہے

آپ یہ کلی تنہا جانے کس چمن کی ہے

Friday, 14 February 2025

امن عالم کی طلبگار ہوئی ہے دنیا

 امن عالم کی طلبگار ہوئی ہے دنیا

دیکھیے بر سرِ پیکار ہوئی ہے دنیا

سیم و زر کے لیے انسان بھی بک جاتے ہیں

کیا کوئی مصر کا بازار ہوئی ہے دنیا

درِ جاناں تو کوئی دور نہیں ہے لیکن

راستے کا مِرے دیوار ہوئی ہے دنیا

Monday, 27 January 2025

نصاب الفت کا باب تھی وہ

 نصاب الفت کا باب تھی وہ

ورق ورق اک کتاب تھی وہ

بیاضِ ہستی پہ آنسوؤں سے

لکھا ہوا انتساب تھی وہ

عظیم صحرائے تشنگی میں

بسیط موجِ سراب تھی وہ

Sunday, 27 June 2021

دامن سے اپنے جھاڑ کے صحرائے غم کی دھول

 دامن سے اپنے جھاڑ کے صحرائے غم کی دُھول

آؤ چلو نہ ہم بھی چنیں سر خوشی کے پھول

آخر کو مل سکی نہ بشر کو رہ نجات

یوں تو ہر ایک دور میں آتے رہے رسول

دامن بچا کے آئیو میرے مزار تک

اے جانِ نو بہار اُگے ہیں ادھر ببول