Showing posts with label شور علیگ. Show all posts
Showing posts with label شور علیگ. Show all posts

Sunday, 8 September 2024

گفتگو کا راز کیا تخیل کی آواز کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گفتگو کا راز کیا تخیل کی آواز کیا

بامِ عرفانِ نبیﷺ پر عقل کی پرواز کیا

وہ رسولِ دو سراﷺ، وہ تاجدارِ بحر و بر

جس کی قدموں پر جھکا تھا قیصر و کسریٰ کا سر

لوٹتے ہیں جس کے قدموں میں شہنشاہوں کے تاج

لیتی ہے جس کی فقیری تاجداری سے خراج

Wednesday, 27 September 2023

مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو

 مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو

مِری پرواز محدودِ فضائے گلستاں کیوں ہو

جنوں کی وُسعتوں پر تنگ ہے عرصہ دو عالم کا

جو سجدہ ہو تو پھر سجدہ بقیدِ آستاں کیوں ہو

مِرے کام آ گئی آخر مِری کاشانہ بر دوشی

شرار و برق کی زد پر بھی میرا آشیاں کیوں ہو

Monday, 14 June 2021

نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا

 نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا

اک دعا مانگ کر ہاتھ ملنا پڑا

رہ گزر میں نہ تھا آشنا کوئی شخص

پھر بھی ہر شخص کے ساتھ چلنا پڑا

کیسی شبنم کہاں کے نسیم و سحاب

اپنے شعلے میں ہر گل کو جلنا پڑا

Thursday, 10 June 2021

صحبت میکشی سرسری رہ گئی

 صحبتِ مے کشی سرسری رہ گئی

وہ جو مِینا بھری تھی، بھری رہ گئی

کیا غضب ہے نشیمن سُلگتا رہا

اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی

آخرش کام آ ہی گئی خامشی

لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی

Wednesday, 9 June 2021

حد نظر تک رات ہی رات

 حدِ نظر تک رات ہی رات

ایسا سفر اور تیرا سات

موج‌ و ہوا کی سمت نہ دیکھ

جلتی رہے گی شمع حیات

ظرف کفر‌‌ و ایماں تنگ

تیز شراب احساسات

Saturday, 10 April 2021

دیدہ و دانستہ دھوکا کھا گئے

 دیدہ و دانستہ دھوکا کھا گئے

ہم فریبِ زندگی میں آ گئے

جب ہجومِ شوق سے گھبرا گئے

کھو گئے خود اور تم کو پا گئے

چین بھی لینے نہیں دیتے مجھے

میں ابھی بھولا تھا پھر یاد آ گئے

Saturday, 28 November 2020

وجہ تسکین جنوں وصل نگاراں بھی نہیں

 وجہِ تسکینِ جنوں وصلِ نگاراں بھی نہیں

عشق آساں ہے مگر اس قدر آساں بھی نہیں

ہر تجلی کے لیے ظرفِ نظر ہے درکار

جلوہ ارزاں ہے مگر اس قدر ارزاں بھی نہیں

جانے کیا سوچ کے ہر راہ میں رک جاتا ہوں

اس سے ملنے کا کسی موڑ پہ امکاں بھی نہیں

Saturday, 21 November 2020

دم برق و باد ہوتا نفس شرار ہوتا

 دم برق و باد ہوتا نفس شرار ہوتا

کسی رنگ سے تو جینا مجھے سازگار ہوتا

مجھے اس کی بے رخی کا بھی جو اعتبار ہوتا

میں دعا کو ہاتھ اٹھا کر نہ گناہ گار ہوتا

نہ بلا سے اشک تھمتے نہ دعا قبول ہوتی

میں خلوص بندگی سے تو نہ شرمسار ہوتا