Monday, 14 June 2021

نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا

 نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا

اک دعا مانگ کر ہاتھ ملنا پڑا

رہ گزر میں نہ تھا آشنا کوئی شخص

پھر بھی ہر شخص کے ساتھ چلنا پڑا

کیسی شبنم کہاں کے نسیم و سحاب

اپنے شعلے میں ہر گل کو جلنا پڑا

عادتاً خضر کے ساتھ دنیا چلی

فطرتاً ہم کو آگے نکلنا پڑا

چلتے چلتے جہاں شور ہم رک گئے

اپنا رخ حادثوں کو بدلنا پڑا


شور علیگ

منظور حسین 

No comments:

Post a Comment