Monday, 14 June 2021

آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے

 آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے

دل اسی شخص کے حصار میں ہے

جب سے دیکھا ہے خواب میں ان کو

دل کی دھڑکن کہاں شمار میں ہے

کاش وہ خواب سچ میں ڈھل جاتا

یہ بھی حسرت دلِ فگار میں ہے

جاگ اٹھی تمنائے دل تو

دل بھلا کس کےاختیار میں ہے

ہو گئی بے نیاز دنیا سے

ایسی تاثیر اس کے پیار میں ہے

پیار آنے لگا ہے خود پر آج

اس نے بولا حسیں تو چار میں ہے

عشق میں ہار کر سمجھ آئی

جیت میں لطف ہے کہ ہار میں ہے

آج بھی ان کے لمس کی خوشبو

پھول میں موسمِ بہار میں ہے

رنگ کر اپنے رنگ میں وہ گیا

اور دل اس کے انتظار میں ہے


سمیرا یوسف

No comments:

Post a Comment