آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے
دل اسی شخص کے حصار میں ہے
جب سے دیکھا ہے خواب میں ان کو
دل کی دھڑکن کہاں شمار میں ہے
کاش وہ خواب سچ میں ڈھل جاتا
یہ بھی حسرت دلِ فگار میں ہے
جاگ اٹھی تمنائے دل تو
دل بھلا کس کےاختیار میں ہے
ہو گئی بے نیاز دنیا سے
ایسی تاثیر اس کے پیار میں ہے
پیار آنے لگا ہے خود پر آج
اس نے بولا حسیں تو چار میں ہے
عشق میں ہار کر سمجھ آئی
جیت میں لطف ہے کہ ہار میں ہے
آج بھی ان کے لمس کی خوشبو
پھول میں موسمِ بہار میں ہے
رنگ کر اپنے رنگ میں وہ گیا
اور دل اس کے انتظار میں ہے
سمیرا یوسف
No comments:
Post a Comment